سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ 4,300 روپے سستا ہوگیا
کراچی: ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد فی تولہ اور 10 گرام سونے کے نرخ میں ہزاروں روپے کی کمی سامنے آئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کے اثرات مقامی صرافہ مارکیٹ پر بھی واضح طور پر نظر آئے ہیں۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق کاروباری ہفتے کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار 300 روپے کی نمایاں کمی ہوئی، جس کے بعد ملک میں ایک تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 27 ہزار 436 روپے مقرر ہو گئی۔ یہ حالیہ دنوں میں سونے کی قیمت میں ہونے والی بڑی کمیوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 687 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 3 لاکھ 66 ہزار 457 روپے ہو گئی۔ صرافہ بازار کے مطابق عالمی سطح پر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث مقامی مارکیٹ بھی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں کمی، امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث سونے کے نرخ نیچے آئے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی معاشی اور سیاسی صورتحال میں معمولی تبدیلی بھی سونے کی قیمتوں پر فوری اثر ڈالتی ہے، اسی لیے قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
صرافہ ڈیلرز کے مطابق حالیہ کمی کے بعد زیورات خریدنے کے خواہشمند افراد کی دلچسپی میں اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر ایسے صارفین جو شادیوں کے سیزن سے قبل خریداری کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کی وجہ سے خریدار اور سرمایہ کار اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور بڑی سرمایہ کاری سے پہلے مارکیٹ کا رجحان دیکھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو آئندہ چند روز کے دوران مقامی مارکیٹ میں مزید کمی یا قیمتوں میں استحکام دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی بڑی عالمی معاشی، مالیاتی یا جغرافیائی سیاسی پیش رفت کی صورت میں سونے کی قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہونے کا امکان موجود ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ حالیہ کمی صارفین کے لیے خوش آئند ہے، کیونکہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ ہفتوں میں زیورات کی خریداری نسبتاً کم قیمت پر ممکن ہو سکے گی، جس سے مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔








