مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

اسٹیٹ بینک نے شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کر لیا

کراچی:ویب ڈیسک

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے پالیسی ریٹ 11.50 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق موجودہ ملکی اور عالمی معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد شرح سود میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے اجلاس میں ملکی معاشی اشاریوں، مہنگائی کے رجحانات، بیرونی شعبے کی صورتحال اور عالمی اقتصادی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بدستور موجود ہے، جس کے باعث محتاط معاشی پالیسی اپنانا ضروری ہے۔

کمیٹی کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مستقبل میں مہنگائی پر اثرانداز ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر شرح سود میں فوری تبدیلی مناسب نہیں سمجھی گئی۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ افراط زر کے حوالے سے بعض خطرات اب بھی موجود ہیں اور خام تیل کی قیمتوں کا دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں مہنگائی کی شرح میں بہتری کے آثار دیکھنے میں آئے ہیں، تاہم عالمی معاشی حالات، توانائی کی قیمتوں اور بیرونی عوامل کے باعث مستقبل کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

یاد رہے کہ گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس 27 اپریل کو منعقد ہوا تھا، جس میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.50 فیصد تک پہنچا دیا تھا۔ اس وقت مرکزی بینک نے مہنگائی کے ممکنہ دباؤ، عالمی منڈیوں کی غیر یقینی صورتحال اور بیرونی معاشی عوامل کو اس فیصلے کی بنیادی وجوہات قرار دیا تھا۔

ماہرین معاشیات اور کاروباری حلقے اس مانیٹری پالیسی فیصلے پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے کیونکہ یہ مالی سال 2025-26 کا آخری مانیٹری پالیسی جائزہ تھا۔ سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور مالیاتی اداروں کو توقع تھی کہ مرکزی بینک موجودہ معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود کے بارے میں اہم فیصلہ کرے گا۔

اسٹیٹ بینک کے تازہ فیصلے کے بعد آئندہ ڈیڑھ ماہ تک پالیسی ریٹ 11.50 فیصد کی سطح پر برقرار رہے گا۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ مستقبل میں شرح سود سے متعلق فیصلے مہنگائی کی صورتحال، عالمی خام تیل کی قیمتوں، بیرونی شعبے کی کارکردگی اور مجموعی معاشی اشاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

معاشی ماہرین کے مطابق شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری کے رجحانات اور مالیاتی منڈیوں کے لیے استحکام کا پیغام دے سکتا ہے، تاہم آئندہ مہینوں میں مہنگائی اور عالمی اقتصادی حالات پالیسی کی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔

More News