خیبرپختونخوا میں موسلادھار بارشیں اور سیلاب، 12 افراد جاں بحق، متعدد زخمی، ریسکیو آپریشن جاری
پشاور: خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی موسلادھار بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچا دی۔ مختلف حادثات میں کم از کم 12 افراد جاں بحق جبکہ 14 افراد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو اداروں اور ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ شہریوں کو ندی نالوں اور سیلابی گزرگاہوں سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں چار افراد سیلابی ریلے میں بہہ کر جان کی بازی ہار گئے، جبکہ جمرود میں بھی دو افراد جاں بحق ہوئے۔ ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب افغان خاندان کو طورخم بارڈر لے جانے والی گاڑی اچانک سیلابی ریلے کی زد میں آ گئی۔ گاڑی میں بچوں اور خواتین سمیت 16 افراد سوار تھے، جن میں سے 13 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ تین افراد جاں بحق ہوگئے جن کی لاشیں ریسکیو ٹیموں نے برآمد کر لیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق پاک افغان شاہراہ پر شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث 100 سے زائد گاڑیاں مختلف مقامات پر پھنس گئی تھیں، جنہیں بروقت کارروائی کرتے ہوئے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی ٹیمیں بھی تعینات کر دی گئی ہیں۔
ادھر اپر دیر میں مسلسل بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے، جبکہ دریائے پنجکوڑہ میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وادی کاغان میں شدید بارش کے بعد مڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ کاغان کئی مقامات پر متاثر ہوئی، جبکہ پانی کے کٹاؤ سے جھیل سیف الملوک جانے والی سڑک بھی جزوی طور پر بند ہوگئی، جس کے باعث سیاحوں اور مقامی افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بارشوں اور فلیش فلڈ سے مجموعی طور پر 14 مکانات متاثر ہوئے، جن میں ایک مکان مکمل طور پر تباہ جبکہ 13 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔ پشاور، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، لوئر چترال، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور کرم سمیت کئی اضلاع میں گھروں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
دوسری جانب گلگت بلتستان کے ضلع استور میں بھی طوفانی بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جہاں گھروں، فصلوں، رابطہ سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ حکام متاثرہ علاقوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران مزید بارشوں، دریاؤں میں طغیانی اور بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ موجود ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور سیلابی راستوں سے دور رہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو اداروں اور متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے ہائی الرٹ ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی۔








