پنجاب میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں تیز، 36 ہزار 545 افراد ڈی پورٹ، آپریشن مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ
لاہور: پنجاب بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کی وطن واپسی کے لیے جاری کارروائیوں میں مزید تیزی آ گئی ہے۔ پنجاب پولیس نے حکومت کی پالیسی کے تحت صوبے بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن جاری رکھتے ہوئے اب تک 36 ہزار 545 افراد کو ڈی پورٹ کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں قانونی تقاضوں، حکومتی پالیسی اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق جاری ہیں، جبکہ آئندہ بھی غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ڈی پورٹ کیے گئے افراد میں افغان باشندوں سمیت دیگر غیر ملکی بھی شامل ہیں جو مختلف قانونی حیثیت کے ساتھ پاکستان میں مقیم تھے۔ حکام نے بتایا کہ اس وقت بھی 504 افراد مختلف ہولڈنگ پوائنٹس میں موجود ہیں، جہاں ان کی دستاویزی جانچ اور دیگر قانونی کارروائیاں مکمل کی جا رہی ہیں، جس کے بعد انہیں بھی مرحلہ وار اپنے ملک واپس بھیجا جائے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد میں 14 ہزار 614 مرد، 7 ہزار 234 خواتین اور 14 ہزار 697 بچے شامل ہیں۔ پنجاب پولیس کے مطابق ان افراد میں 11 ہزار 124 ایسے افراد بھی شامل تھے جن کے پاس کسی نوعیت کا رہائشی ثبوت موجود تھا، جبکہ 11 ہزار 137 افراد افغان سٹیزن کارڈ (ACC) رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ 14 ہزار 284 افراد ایسے تھے جو بغیر کسی قانونی دستاویز کے پاکستان میں مقیم تھے اور انہیں غیر قانونی طور پر رہائش اختیار کرنے پر واپس بھیجا گیا۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عبدالکریم نے تمام ریجنل پولیس افسران، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو ہدایت جاری کی ہے کہ صوبے بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم تمام غیر ملکی باشندوں کی نشاندہی اور انخلا کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام کارروائیاں قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کا مکمل احترام کرتے ہوئے انجام دی جائیں۔
پنجاب پولیس کے مطابق ضلعی انتظامیہ، امیگریشن حکام، نادرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی تصدیق اور واپسی کے عمل کو منظم انداز میں مکمل کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہولڈنگ پوائنٹس پر بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ڈی پورٹ ہونے والے افراد کو کسی قسم کی غیر ضروری دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ترجمان پنجاب پولیس نے کہا کہ حکومت پاکستان کی پالیسی کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم تمام غیر ملکیوں کی واپسی کا عمل جاری رہے گا اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ پولیس حکام کے مطابق اس مہم کا مقصد ملک میں امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد، دستاویزی نظام کو مضبوط بنانا اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ اگر انہیں کسی علاقے میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے بارے میں معلومات ہوں تو متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔







