ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی
لندن: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں عارضی وقفے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ توانائی کی عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں نے جنگی صورتحال میں وقتی نرمی کو مثبت اشارہ قرار دیتے ہوئے خریداری کا دباؤ کم کیا، جس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتیں نیچے آگئیں۔
بین الاقوامی منڈی میں برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 92 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی تقریباً 5 فیصد کمی ہوئی، جبکہ اس کے مستقبل کے سودے 85 ڈالر فی بیرل پر کیے جا رہے ہیں۔
ادھر متحدہ عرب امارات کے مربن کروڈ آئل کی قیمت میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں 10 فیصد سے زائد گراوٹ کے بعد اس کے سودے 97 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ ماہرین کے مطابق مربن کروڈ کی قیمت میں یہ کمی خلیجی خطے میں سپلائی سے متعلق خدشات میں وقتی کمی کی عکاسی کرتی ہے۔
صرف خام تیل ہی نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق قدرتی گیس کی قیمت میں 2 فیصد سے زائد کمی آئی، جس کی بنیادی وجہ جنگی حالات میں عارضی سکون اور توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات میں وقتی کمی قرار دی جا رہی ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کمی مستقل رجحان نہیں بلکہ جنگ میں وقفے کا فوری ردعمل ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے یا مشرق وسطیٰ میں تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی اور اہم بحری راستوں یا تیل کی تنصیبات کو خطرات لاحق ہوئے تو خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا کے تیل کے اسٹریٹجک ذخائر میں مسلسل کمی بھی عالمی منڈی میں بے چینی کو بڑھا سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر دنیا بھر کی معیشت، مہنگائی، ٹرانسپورٹ، صنعتی پیداوار اور ایندھن کی مقامی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اسی لیے سرمایہ کار اور عالمی مالیاتی ادارے ایران امریکا تنازع کی ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ آئندہ چند دنوں میں ہونے والی پیش رفت عالمی توانائی مارکیٹ کا رخ متعین کر سکتی ہے۔







