پشاورکے مزید 45 پرائمری سکول آؤٹ سورسنگ کے لیے منتخب

پشاور کے مزید 45 سرکاری پرائمری سکول آؤٹ سورسنگ کے لیے منتخب

پشاور میں سرکاری تعلیمی اداروں سے متعلق ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں مزید 45 سرکاری پرائمری سکولوں کو آؤٹ سورسنگ کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد کم طلبہ والے اور کم فعال سکولوں کو بہتر انداز میں چلانے کے ساتھ ساتھ تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو مؤثر بنانا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آؤٹ سورسنگ کے ابتدائی مرحلے کے لیے پشاور کے مختلف علاقوں سے 45 پرائمری سکولوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ان میں پشاور سٹی سے 15 سکول، کینٹ اور حیات آباد سرکل سے مزید 15 سکول جبکہ شہر کے دیگر نواحی علاقوں سے 15 سکول شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان سکولوں کے انتخاب میں طلبہ کی تعداد، سکولوں کی موجودہ صورتحال اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ افغان مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کے بعد پشاور کے متعدد سرکاری پرائمری سکولوں میں طلبہ کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث بعض تعلیمی ادارے تقریباً خالی ہوگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق طلبہ کی تعداد میں کمی کے باعث کئی سکولوں میں دستیاب تعلیمی وسائل اور اساتذہ کی تعداد کے حوالے سے بھی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ تعلیم کی جانب سے سکولوں کے انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منتخب سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے ساتھ ساتھ وہاں تعینات اساتذہ کے پوزیشن کوڈ تبدیل کرنے کے منصوبے پر بھی اہم پیشرفت جاری ہے۔ اس اقدام کے ذریعے اساتذہ کو ضرورت کے مطابق دیگر سکولوں میں تعینات کرنے اور انسانی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے حکومتی اقدام پر مختلف حلقوں کی جانب سے توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق اس عمل کا بنیادی مقصد تعلیمی نظام کو فعال بنانا اور محدود وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

More News