طالبان کے ڈرون پروگرام، بھارتی انجینئرز اور القاعدہ کے مبینہ تعاون کا انکشاف
برطانوی جریدے دی انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ میں طالبان حکومت کے ڈرون پروگرام، بھارتی فوجی انجینئرز کی مبینہ معاونت اور القاعدہ کے ساتھ ممکنہ تکنیکی تعاون سے متعلق اہم دعوے سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان نے اکتوبر 2025 میں پہلی مرتبہ پاکستان کے خلاف ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے بعد گزشتہ 11 ماہ کے دوران پاکستان اور افغان فریڈم فرنٹ کے خلاف کارروائیوں میں ڈرونز کا استعمال مسلسل بڑھتا رہا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان نے زیبک سمیت مختلف علاقوں میں افغان فریڈم فرنٹ کے خلاف ڈرونز کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا۔ حملوں سے متعلق سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں شہری مقامات بھی دکھائی دیتے ہیں، جس سے طالبان کے صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعووں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق طالبان کی وزارت دفاع نے چینی کمپنیوں سے ہزاروں کمرشل کواڈ کاپٹرز اور ڈرون انجن خریدے، جبکہ طالبان حکام نے گزشتہ ایک سال کے دوران حمایت کے حصول کے لیے بھارت کے متعدد دورے بھی کیے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی فوجی انجینئرز کابل میں بھارتی سفارتخانے کے تعاون سے طالبان کی ڈرون صلاحیت بڑھانے میں معاونت کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کے کمرشل کواڈ کاپٹرز میں کیمرے، دستی بم اور دیگر فوجی نوعیت کا گولہ بارود نصب کیا جا رہا ہے، جبکہ مبینہ بھارتی معاونت سے بڑی تعداد میں حملہ آور ڈرونز تیار کرکے افغانستان کے مختلف فوجی اڈوں پر تقسیم کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی نگرانی سے متعلق رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طالبان کم لاگت کے خودکش ڈرونز تیار کر رہے ہیں۔ القاعدہ کی جانب سے مقامی سطح پر خودکش ڈرونز کی تیاری اور تکنیکی صلاحیت بہتر بنانے میں مبینہ معاونت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کابل اور صوبہ لوگر میں طالبان کی فوجی تنصیبات پر ڈرونز کی تیاری جاری ہے، جبکہ ایک سابق افغان سیکیورٹی عہدیدار نے کابل کے داؤد خان ملٹری ہسپتال کے تہہ خانے میں مبینہ ڈرون پیداواری مرکز قائم ہونے کا دعویٰ کیا۔
رپورٹ کے مطابق طالبان اور القاعدہ کے مبینہ تکنیکی تعاون اور بھارت کے ساتھ بڑھتے عسکری روابط نے افغانستان میں ڈرون ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ سے متعلق تشویش بڑھا دی ہے، جبکہ پاکستان کے لیے بھی اسے ایک ممکنہ سیکیورٹی چیلنج قرار دیا گیا ہے۔






