امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کا کردار، اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کو اہم قرار دے دیا گیا
ساؤتھ ایشین وائسز (SVC) کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی بحالی میں مؤثر سفارتی کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات ہوئے، جو 1979 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا براہِ راست رابطہ قرار دیا گیا۔ ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق پاکستان نے ایسے وقت میں امریکا اور ایران کے درمیان رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی انتہائی سنگین مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور واشنگٹن و تہران دونوں کے ساتھ سفارتی روابط نے اسلام آباد کو ثالثی کے لیے ایک منفرد مقام فراہم کیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان اسلام آباد میں 20 گھنٹے سے زائد مذاکرات ہوئے، جبکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں فریقوں نے جنگ بندی کا اعلان کیا اور براہِ راست مذاکرات کا راستہ کھلا۔
ساؤتھ ایشین وائسز نے پاکستان کی اس سفارتی کوشش کو 1971 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے خفیہ دورۂ چین میں پاکستان کے کردار کے ہم پلہ قرار دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ چین، فرانس، جرمنی، بھارت اور برطانیہ سمیت کئی بڑی طاقتیں بھی ایسا مؤثر سفارتی کردار ادا نہیں کرسکیں۔
تاہم تجزیاتی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ امریکا ایران تنازع کی پیچیدگیاں بنیادی طور پر دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے اختلافات کا نتیجہ ہیں۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہے، تاہم مذاکراتی عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق اگر مستقبل میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھی تو دونوں فریق مذاکرات اور سفارتی رابطے کے لیے دوبارہ اسلام آباد کا رخ کرسکتے ہیں۔
تجزیے میں پاکستان کو ایک ایسی درمیانی طاقت قرار دیا گیا ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت، سفارتی رسائی اور دونوں فریقوں کے ساتھ روابط کے ذریعے عالمی تنازعات میں مؤثر ثالثی کا کردار ادا کرسکتی ہے۔






