اے آئی جی اور ایس ایس پی پر بھروسہ نہیں، پوری تفتیشی ٹیم بدلی جائے: وکیل والد میر رضا

میر رضا کیس، والد کے وکیل کا قتل کا شبہ، تحقیقاتی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ

میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ میر رضا کی موت کے معاملے میں شکوک و شبہات موجود ہیں اور خاندان کو مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ تحقیقاتی ٹیم کو تبدیل کرکے اچھی شہرت رکھنے والے پولیس افسران کو شامل کیا جائے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ میر رضا کے جسم پر مختلف مقامات پر چوٹوں کے نشانات پائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق میر رضا کی ٹھوڑی، ماتھے اور پاؤں کے انگوٹھے پر انجری کے نشانات موجود تھے، جبکہ جسم سے ایک کالا مواد بھی ملا ہے جس کے 17 نمونے فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیجے گئے ہیں۔

وکیل کے مطابق میڈیکل اور فرانزک شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ میر رضا کو گولی کمر کی جانب سے لگی اور سینے کی طرف سے نکلی۔ ان کا کہنا تھا کہ گولی کے اثر سے پانچویں پسلی متاثر ہوئی جبکہ پھیپھڑوں میں خون بھی جمع ہوا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پسلیوں پر بھی چوٹ کے شواہد ملے ہیں۔

جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے، اس لیے خاندان کو موت کے واقعے کو محض خودکشی تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق پولیس افسران مبینہ طور پر خاندان پر خودکشی کے مؤقف کو ماننے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میر رضا کے والدین نے پوسٹ مارٹم رپورٹ وصول کرلی ہے جبکہ میڈیکل بورڈ سے 14 سوالات کے جوابات بھی حاصل کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف نمونے بھی فرانزک تجزیے کے لیے بھیجے گئے ہیں، جن کی رپورٹس تحقیقات میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

وکیل نے اے آئی جی کراچی اور ایس ایس پی کی تحقیقاتی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پوری تحقیقاتی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف چند ارکان تبدیل کرنا کافی نہیں بلکہ نئی ٹیم غیر جانب دار اور اچھی شہرت رکھنے والے افسران پر مشتمل ہونی چاہیے، بصورت دیگر خاندان عدالت سے رجوع کرے گا۔

جبران ناصر نے گیسٹ ہاؤس کے ممکنہ کردار پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ جس مقام سے میر رضا کی لاش ملی، وہاں اس سے قبل بھی لاشیں ملنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس پہلو کی بھی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ تفتیش کے نام پر میر رضا کے خاندان کے نجی اور مالی معاملات کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کو دباؤ میں لانے کے بجائے اصل واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

More News