ججز کی تعیناتی اور آزاد کشمیر انتخابات پر پیپلز پارٹی کے تحفظات، نیئر بخاری کے اہم انکشافات
سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی نیئر بخاری نے ججز کی تعیناتی اور آزاد کشمیر کے انتخابات سے متعلق پارٹی کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے بعض ارکان کی ہمارے ارکان کے ساتھ انڈر اسٹینڈنگ تھی، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے فاروق ایچ نائیک جوڈیشل کمیشن میں نمائندگی کرتے ہیں۔
نیئر بخاری کے مطابق ججز کی تعیناتی کے لیے پیپلز پارٹی سے بھی نام طلب کیے گئے تھے، تاہم ابھی تعیناتیاں نہیں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر قمر سبزواری کا نام ٹاپ لسٹ میں شامل تھا، جبکہ ججز کی تعیناتی سے متعلق صدر کے پاس بھیجی گئی سمری میں 4 ججز کا تعلق پشاور اور 2 کا سندھ سے بتایا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سمری میں شامل ایک جج پر کرپشن کے الزامات ہیں، اسی بنیاد پر صدر نے ججز کی تعیناتی کی سمری روک رکھی ہے۔ نیئر بخاری نے ایک سابق ایڈیشنل سیشن جج سے متعلق ایک مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ جج نے مبینہ طور پر رقم لینے کا اعتراف کیا تھا اور بعد ازاں اسے ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے سے متعلق نام ججز کی تعیناتی کی سمری میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
نیئر بخاری نے مزید کہا کہ پشاور سے تعلق رکھنے والا ایک امیدوار نان ٹیکس پیئر تھا۔ ان کے مطابق ملک میں نظام اس لیے درست طریقے سے نہیں چل رہا کیونکہ آئین پر مکمل عمل درآمد نہیں ہورہا۔
آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ پارٹی کو وہاں مضبوط حمایت حاصل تھی، تاہم انتخابی نتائج سے انہیں تکلیف ہوئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کوٹلی کی چار نشستیں پیپلز پارٹی سے چھینی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان نشستوں سے متعلق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی کمیٹی کی قیادت وہ خود کررہے تھے۔ نیئر بخاری کے مطابق کمیٹی کے تین اجلاس ہوئے اور ایل اے 12 کے 40 پولنگ اسٹیشنز پر 80 فیصد سے زائد ٹرن آؤٹ کی نشاندہی کی گئی، جس پر دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ سے اس معاملے پر بات ہوئی اور انہوں نے وزیراعظم سے منظوری لینے کے بعد آگاہ کرنے کا کہا، تاہم شام تک انتظار کے باوجود کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
نیئر بخاری نے میرپور ڈویژن کے دوسرے مرحلے کے انتخابات پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ایل اے 27 اور 28 کے انتخابات ملتوی ہوئے، جبکہ مختلف حلقوں میں نتائج پر بھی پارٹی نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔






