آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ، آرامکو سی ای او کا انتباہ
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ایچ ناصر نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی تیل کے ذخائر میں کمی کے باعث توانائی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہیں کھلتی اور عالمی تجارت پر اعتماد بحال نہیں ہوتا، تیل اور صاف شدہ ایندھن کی فراہمی پر دباؤ بڑھتا رہے گا۔
امین ناصر نے یہ اظہارِ خیال 5 اکتوبر 2026 کو لندن میں انرجی انٹیلی جنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے عالمی توانائی کی فراہمی کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ خام تیل کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی بھی دباؤ کا شکار ہے۔
آرامکو کے سربراہ نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے توانائی کے نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ بحران ان کے کئی دہائیوں پر محیط پیشہ ورانہ تجربے کے دوران توانائی کی فراہمی کو درپیش سب سے بڑے جھٹکوں میں سے ایک ہے۔
امین ناصر کے مطابق بحران کے دوران عالمی سطح پر تقریباً 3 ارب بیرل تیل کی مجموعی فراہمی متاثر ہوئی، جبکہ ایک ارب بیرل سے زیادہ تیل ہنگامی ذخائر سے فراہم کرکے قلت کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی ذخائر کا استعمال مستقل حل نہیں، کیونکہ عالمی طلب پوری کرنے اور ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے مسلسل فراہمی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ عالمی تجارتی ذخائر میں تقریباً 6 ارب بیرل سے بھی کم تیل باقی رہ گیا ہے، جس کا بڑا حصہ فوری طور پر استعمال کے لیے دستیاب نہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلنے کے بعد بھی عالمی تیل کے ذخائر کو دوبارہ مطلوبہ سطح تک پہنچانے میں دو سال تک لگ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا اہم سمندری راستہ ہے۔ عالمی توانائی کی تجارت میں اس کی غیر معمولی اہمیت ہے، کیونکہ خلیجی ممالک سے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔
اس راستے میں طویل تعطل تیل کی قیمتوں، مال برداری کے اخراجات اور ایندھن کی دستیابی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے اثرات درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
آرامکو کے سربراہ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور عالمی تیل کے ذخائر کی دوبارہ تکمیل توانائی منڈیوں کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔








