اسلام آباد میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کے پیش نظر ریڈ زون، توسیع شدہ ریڈ زون سیل کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے پیش نظر ریڈ زون اور توسیع شدہ ریڈ زون کو سیل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی انتظامات کے تحت ریڈ زون کی جانب جانے والے اہم راستوں کو بند کرکے بھاری نفری تعینات کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریڈ زون کی طرف جانے والے پانچوں راستوں کو مکمل طور پر بند کیا جائے گا۔ تمام داخلی راستوں پر کنٹینرز کی دو، دو تہیں لگا کر راستے بند کیے جائیں گے، جبکہ سیکیورٹی کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے ایکسٹینڈڈ ریڈ زون کو بھی سیل کردیا جائے گا اور اسے صرف ہنگامی حالات میں کھولنے کی اجازت ہوگی۔ سیکیورٹی حکام کی جانب سے لانگ مارچ کے دوران کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے افسران اور اہلکاروں کی تمام نوعیت کی چھٹیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ آئی جی اسلام آباد کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ سرکلر جاری کردیا گیا ہے۔
سرکلر کے مطابق اتفاقی، استحقاقی اور بیرون ملک جانے سمیت مختلف اقسام کی چھٹیوں پر پابندی ہوگی۔ اسلام آباد پولیس میں یہ پابندی 5 اکتوبر 2026 تک برقرار رہے گی۔ تاہم ہنگامی نوعیت کی چھٹی کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق چھٹی پر موجود افسران اور اہلکاروں کو بھی فوری طور پر اپنی ڈیوٹی پر واپس آنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ متعلقہ افسران کو سیکیورٹی انتظامات کے لیے اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے اور مقررہ مقامات پر موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد کے اہم سرکاری و حساس علاقوں کی سیکیورٹی مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ریڈ زون اور توسیع شدہ ریڈ زون میں داخلے اور آمدورفت کو محدود رکھنے کے لیے متبادل انتظامات بھی کیے جارہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی پلان کے تحت اہم عمارتوں، داخلی راستوں اور حساس مقامات پر اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی انتظامات کا مقصد حساس علاقوں اور اہم سرکاری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا ہے، جبکہ صورتحال کے مطابق مزید اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں۔







