جنوری 2027 میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ردوبدل متوقع
حکومتی معاشی ٹیم اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ ہفتے مذاکرات ہونے کا امکان ہے، جن میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری اور بجلی و گیس کے گردشی قرضے کے سیٹلمنٹ پلان پر آئی ایم ایف کو بریفنگ دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں بجلی اور گیس کی قیمتوں، سبسڈی اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق جنوری 2027 میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں ردوبدل متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے آئندہ سال بجلی کی سبسڈی مستحق صارفین کو انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے فراہم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی مکمل لاگت صارفین سے وصول کرنے اور کراس سبسڈی کے خاتمے کی صورت میں بجلی کے ٹیرف میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
حکومت نے بجلی کی مسابقتی مارکیٹ کے لیے ٹیرف طے کرلیا ہے، تاہم اس حوالے سے نیلامی کا عمل تاحال شروع نہیں ہوسکا۔ دوسری جانب اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان الیکٹرک کمپنیوں کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کے نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
مذاکرات میں بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے کو محدود رکھنے کے حکومتی منصوبے پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق بجلی کے شعبے کا گردشی قرض 1614 ارب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے توانائی کے شعبے میں مالی نظم و ضبط اور اصلاحات پر بھی توجہ دی جائے گی۔
گیس کے شعبے میں تقریباً 3600 ارب روپے کے گردشی قرضے کا سیٹلمنٹ بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایل این جی کی مکمل لاگت صارفین سے وصول کرنے اور گیس کے موجودہ سلیب سسٹم میں نظرثانی کے نتیجے میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کا امکان بھی زیر بحث ہے۔
ذرائع کے مطابق گیس کی قیمتوں کا ششماہی بنیادوں پر نوٹیفکیشن بھی آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل ہے۔ آئندہ مذاکرات میں بجلی اور گیس کے ترسیلی نظام میں اصلاحات، نجی شعبے کی شمولیت اور توانائی کے شعبے کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات پر آئی ایم ایف حکام کو تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔
حکومتی معاشی ٹیم مذاکرات کے دوران توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق آئی ایم ایف کو آگاہ کرے گی، جبکہ ٹیرف، سبسڈی اور گردشی قرضے سے متعلق معاملات پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔








