افغان سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال ہورہی ہے، طلال چودھری
اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے، جبکہ آزاد کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران مبینہ آڈیو ریکارڈنگز اور ویڈیوز بھی میڈیا کے سامنے پیش کی گئیں۔
وزیر مملکت کے مطابق دہشت گردی کیلئے سہولت کاری کرنے والا ایک مبینہ ٹیرر کرائم نیٹ ورک سرگرم ہے، جس کے خلاف کارروائی کا آغاز ضیا نامی شخص کی گرفتاری سے ہوا۔ ان کے بقول ضیا آزاد کشمیر کا رہائشی ہے اور گزشتہ کئی برس سے اسلحے کے کاروبار سے وابستہ رہا ہے۔
طلال چودھری نے دعویٰ کیا کہ ضیا گزشتہ دو سال سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ بعض افراد کو اسلحہ فراہم کررہا تھا۔ ان کے مطابق سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد ضیا کو گرفتار کیا گیا، جبکہ اس کے موبائل فون سے مبینہ طور پر نیٹ ورک سے متعلق معلومات حاصل ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ ضیا کے رابطے ماجد نامی شخص سے تھے، جسے انہوں نے سردار امان کا قریبی ساتھی قرار دیا۔ طلال چودھری کے مطابق سردار امان کالعدم ایکشن کمیٹی کے سرگرم رکن ہیں۔ پریس کانفرنس میں ضیا اور ماجد کے درمیان ہونے والی مبینہ گفتگو کی آڈیو بھی سنائی گئی۔
وزیر مملکت نے مزید دعویٰ کیا کہ ضیا کے افغانستان میں زرشاد نامی شخص سے بھی رابطے تھے، جو مبینہ طور پر اسے اسلحہ فراہم کرتا تھا اور افغانستان کے مختلف شہروں سے آپریٹ کرتا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان سے اسلحہ پہلے باڑہ، خیبرپختونخوا پہنچایا جاتا اور وہاں سے آزاد کشمیر منتقل کیا جاتا تھا۔
طلال چودھری نے ایک سرکاری ملازم اکبر پر بھی مبینہ نیٹ ورک کا حصہ ہونے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اسے ہر پھیرے کے عوض رقم دی جاتی تھی۔
آزاد کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ جب ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 37 مطالبات تسلیم یا جزوی طور پر مان لیے گئے اور ان پر عملدرآمد شروع ہوگیا تو اچانک لانگ مارچ کا اعلان کردیا گیا۔ ان کے مطابق اس کے بعد ایسا ماحول پیدا ہوا جس سے انتخابات کے انعقاد پر بھی اثر پڑا۔
حکومت کی جانب سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد الزامات اور اس کے کالعدم قرار دیے جانے کا معاملہ پہلے بھی تنازع کا باعث رہا ہے۔ کمیٹی کی جانب سے اپنے احتجاجی مؤقف کو پرامن قرار دینے کے بیانات بھی سامنے آچکے ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر طلال چودھری نے ضیا نامی شخص کا مبینہ اعترافی ویڈیو بیان بھی میڈیا کے سامنے چلایا۔








