افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہرگز قبول نہیں، وزیراعظم

افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہرگز قبول نہیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

وزیراعظم کے مطابق پاکستان کو دہشت گردی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کے باعث قیمتی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ حکومت کی ترجیح ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔

شہباز شریف نے اس مؤقف پر زور دیا کہ کسی بھی ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات پاکستان کے لیے سیکیورٹی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے۔

پاکستانی حکام متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ سرحد پار سے دہشت گردی کے خطرات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی ادارے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سیکیورٹی معاملات اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظام، دہشت گردی کی روک تھام اور باہمی تعاون جیسے امور پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور رابطوں کو اہم قرار دیا جاتا ہے۔

وزیراعظم کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے خاتمے اور افغان سرزمین سے ہونے والے ممکنہ خطرات کی روک تھام کو اہمیت دیتا ہے۔ حکومت کے مطابق ملک کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

More News