انڈونیشیا میں حکومت کے مفت کھانے کے پروگرام سے تقریباً 800 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار
جکارتہ: انڈونیشیا میں حکومت کے مفت کھانے کے پروگرام کے تحت فراہم کیے جانے والے کھانے سے مختلف واقعات میں تقریباً 800 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوگئے، جن میں بڑی تعداد طلبہ کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پارلیمانی کمیشن برائے صحت کے رکن چارلس ہونورِس نے بتایا کہ رواں ہفتے مشرقی جاوا صوبے میں 500 سے زائد طلبہ سمیت مختلف علاقوں میں سیکڑوں افراد فوڈ پوائزننگ سے متاثر ہوئے۔
ان کے مطابق مشرقی جاوا کے علاقے سیدوارجو میں 512 طلبہ، نگانجک میں 49 افراد جبکہ مغربی سُمترا کے آگم علاقے میں 237 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوئے۔ چارلس ہونورِس نے مقامی محکمہ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے یہ معلومات سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیں۔
صدر پرابوو سوبیانتو نے 2023 میں اربوں ڈالر مالیت کا یہ پروگرام شروع کیا تھا، جس کا مقصد لاکھوں بچوں کو مفت کھانا فراہم کرکے غذائی کمی پر قابو پانا ہے۔ تاہم پروگرام کو بڑے پیمانے پر فوڈ پوائزننگ کے واقعات، کرپشن کے الزامات، انتظامی تبدیلیوں اور مالی پائیداری کے خدشات سمیت مختلف تنازعات کا سامنا ہے۔
قومی غذائیت ایجنسی، جو اس پروگرام کی ذمہ دار ہے، نے فوری طور پر ہونورِس کے بیان پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ تاہم سیدوارجو میں فوڈ پوائزننگ کے واقعے سے منسلک کچن کو معطل کردیا گیا ہے۔
غیر سرکاری تنظیم نیٹ ورک فار ایجوکیشن واچ کے مطابق 8 اگست تک مفت کھانے کے پروگرام سے منسلک مختلف فوڈ پوائزننگ واقعات میں 37 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔
حکام اکثر ان واقعات کی وجہ کھانے کی ناقص ذخیرہ اندوزی اور تیار شدہ کھانے کی ترسیل میں تاخیر کو قرار دیتے ہیں، جبکہ ایک حالیہ سروے میں صرف ایک تہائی افراد نے پروگرام پر اطمینان کا اظہار کیا۔







