ایرانی ریال کی قدر میں مسلسل کمی، ڈالر کے مقابلے میں نئی ریکارڈ کم ترین سطح پر
تہران: ایران کی قومی کرنسی ریال کی قدر میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال نئی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ کرنسی کی مسلسل گرتی قدر نے ایرانی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ حکومت نے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے زرمبادلہ مارکیٹ میں ڈالر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آزاد مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 2.688 ملین ایرانی ریال تک پہنچ گئی، جو اس سے ایک روز قبل تقریباً 2.632 ملین ریال تھی۔ اس طرح ریال کی قدر میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ایرانی کرنسی اپنی قدر کا نصف سے زیادہ حصہ کھو چکی ہے۔
ایرانی حکام نے کرنسی کی گرتی قدر کو سہارا دینے کے لیے مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی فراہمی بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق سرکاری بینکوں کے ذریعے مارکیٹ میں 2 ارب ڈالر تک فراہم کیے جائیں گے تاکہ زرمبادلہ کی طلب کو پورا کیا جاسکے اور ریال پر دباؤ کم کیا جاسکے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں حالیہ دباؤ کے پیچھے بعض نفسیاتی عوامل بھی موجود ہیں۔ مرکزی بینک کے ایک عہدیدار نے ریال کی گرتی قدر کو بیرونی دباؤ اور ایران کی معیشت کے حوالے سے منفی پیش گوئیوں سے بھی جوڑا ہے۔ تاہم آزاد مارکیٹ میں ریال مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔
ایران کو اس وقت شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ ملک پر عائد امریکی پابندیاں، تیل کی برآمدات سے متعلق مشکلات اور عالمی مالیاتی نظام تک محدود رسائی نے زرمبادلہ کے حصول کو متاثر کیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ایران میں افراط زر بھی 70 فیصد سے زیادہ کی سطح پر ہے، جس کے باعث عام شہریوں کے لیے اشیائے ضروریہ اور دیگر اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
ریال کی قدر میں کمی کے باعث ایرانی شہری اپنی بچت کو محفوظ رکھنے کے لیے ڈالر، دیگر غیر ملکی کرنسیوں اور سونے کی جانب بھی متوجہ ہو رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق جب مقامی کرنسی پر اعتماد کم ہوتا ہے تو لوگ عموماً ایسی اثاثہ جات کو ترجیح دیتے ہیں جنہیں قدر محفوظ رکھنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی حکومت کی جانب سے 2 ارب ڈالر تک مارکیٹ میں فراہم کرنے کے باوجود ریال پر دباؤ برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ عرصے میں کرنسی کی سمت کا انحصار زرمبادلہ کی دستیابی، مہنگائی، تیل کی آمدنی، پابندیوں اور عالمی سطح پر ایران کی معاشی صورتحال پر ہوگا۔








