ایزی پیسہ کو 40 ہزار روپے واپس کرنے کا حکم، پشاور صارف عدالت کا فیصلہ

ایزی پیسہ کو 40 ہزار روپے واپس کرنے کا حکم، پشاور صارف عدالت کا فیصلہ

پشاور کی صارف عدالت نے صارف کی اجازت کے بغیر ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے 40 ہزار روپے منتقل ہونے کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک کو رقم واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے صارف کو 25 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرنے جبکہ حکومت کو 25 ہزار روپے جرمانہ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

صارف عدالت کے جج نصراللہ خان گنڈاپور نے فہدالرحمان کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سنایا، جس میں شکایت کو جزوی طور پر منظور کیا گیا۔ فیصلہ 3 اکتوبر 2026 کو سنایا گیا۔

درخواست گزار کے مطابق 12 فروری 2026 کو اس کے اکاؤنٹ سے تین الگ الگ ٹرانزیکشنز کے ذریعے مجموعی طور پر 40 ہزار روپے منتقل کیے گئے۔ ان میں 10 ہزار روپے عمران ٹریڈرز، 22 ہزار روپے سوئفٹ کلیکٹ سسٹم جبکہ 8 ہزار روپے ایزی آن لائن سروس کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔

فہدالرحمان نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ ٹرانزیکشنز اس نے خود نہیں کیں اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کو رقم منتقل کرنے کی اجازت دی۔ ان کے مطابق متنازع ٹرانزیکشنز کے حوالے سے انہیں ای میل کے ذریعے بھی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے قرار دیا کہ مالیاتی اور الیکٹرانک ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں پر مناسب احتیاط، مؤثر سکیورٹی اور صارفین کو متوقع معیار کے مطابق خدمات فراہم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے اسی بنیاد پر رقم کی واپسی، ہرجانے اور جرمانے کا حکم جاری کیا۔

More News