ایل این جی کی آمد میں تاخیر سے کئی علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ: پاکستان پاور ڈویژن

ایل این جی کی آمد میں تاخیر، پاکستان کے کئی علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ

پاور ڈویژن کے مطابق آر ایل این جی کی عدم دستیابی اور کارگو کی تاخیر سے 3600 میگاواٹ کا شارٹ فال پیدا ہوا، جبکہ پن بجلی کی پیداوار میں بھی 195 میگاواٹ کمی ریکارڈ کی گئی۔

اسلام آباد: پاکستان میں گیس کی رسد متاثر ہونے اور ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کے کارگو کی آمد میں تاخیر کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف علاقوں میں عارضی لوڈ مینجمنٹ اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔

پاور ڈویژن کے ترجمان کی جانب سے 29 اگست کو جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ آر ایل این جی کی عدم دستیابی اور متعلقہ کارگو کے مقررہ وقت پر نہ پہنچنے کے باعث ہفتے کی رات بجلی کے نظام میں تقریباً 3600 میگاواٹ کا شارٹ فال پیدا ہوا۔

ترجمان کے مطابق اس صورتحال کے باعث رات کے اوقات، خصوصاً بجلی کے زیادہ استعمال کے پیک آورز میں، صارفین کو تقریباً ڈیڑھ سے تین گھنٹے تک عارضی لوڈ مینجمنٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹس کو بھی پیک آورز میں استعمال کیا گیا۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ آر ایل این جی کی فراہمی میں تاخیر کے ساتھ ساتھ پن بجلی کی پیداوار میں بھی کمی واقع ہوئی۔ منگلا سے بجلی کی پیداوار میں تقریباً 195 میگاواٹ کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس نے بجلی کے مجموعی شارٹ فال کو مزید بڑھا دیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی آر ایل این جی کے کارگو ملک میں پہنچیں گے، عارضی لوڈ مینجمنٹ میں کمی لائی جائے گی اور بجلی کی فراہمی معمول پر آنے کی توقع ہے۔

پاور ڈویژن نے صارفین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ رات کے اوقات میں بجلی کے استعمال میں ممکنہ حد تک اعتدال سے کام لیں تاکہ بجلی کے نظام پر دباؤ کم کیا جا سکے اور لوڈ مینجمنٹ کو کم سے کم رکھا جا سکے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ دن کے اوقات میں کوئی عمومی لوڈ مینجمنٹ نہیں کی جا رہی۔ تاہم ایسے علاقوں میں جہاں بجلی کے نظام میں زیادہ نقصانات کے باعث لوڈ مینجمنٹ معمول کا حصہ ہے، وہاں صارفین کو طے شدہ شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

پاور ڈویژن نے آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث رات کے اوقات میں عارضی لوڈ مینجمنٹ پر صارفین سے معذرت بھی کی ہے۔

حکام کے مطابق صورتحال عارضی نوعیت کی ہے اور ایل این جی کارگو کی آمد کے بعد بجلی کی پیداوار اور فراہمی میں بہتری آنے کی امید ہے۔ تاہم حالیہ صورتحال نے ایک مرتبہ پھر ملک میں بجلی کی پیداوار کے لیے گیس اور دیگر ایندھن کی بروقت دستیابی کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔

More News