پمز آتشزدگی: مرنے والے 14 بچوں میں سے ایک لاوارث بچے کی تدفین کر دی گئی

پمز آتشزدگی: جاں بحق 14 نومولود بچوں میں سے لاوارث بچے علی کی تدفین کر دی گئی

پمز نرسری میں آتشزدگی سے جاں بحق ہونے والے 14 بچوں میں شامل ایک لاوارث بچے کی میت ایدھی سینٹر نے وصول کی، بچے کو سیکٹر ایچ الیون کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں چند روز قبل پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں میں سے ایک لاوارث بچے کی تدفین کر دی گئی ہے۔ بچے کو پیدائش کے بعد ہسپتال میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا تھا اور اس کی میت وصول کرنے کے لیے کوئی لواحق موجود نہیں تھا۔

اسلام آباد ایدھی سینٹر کے مینیجر اللہ دتہ نے بتایا کہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے بچے کو ’علی‘ کا نام دیا گیا تھا۔ بچے کی تدفین سیکٹر ایچ الیون کے قبرستان میں لاوارث افراد کے لیے مختص حصے میں کی گئی۔

اللہ دتہ کے مطابق آتشزدگی کے واقعے کے بعد جاں بحق ہونے والے تمام 14 بچوں کی میتیں ایدھی سینٹر نے وصول کیں اور ایدھی ایمبولینس سروس کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود اور ایدھی کے دیگر رضاکار بھی اس موقع پر موجود تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ایاز نے بچے کی میت ایدھی سینٹر کے حوالے کی۔ واقعے کے روز پمز ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار رمضان نے بھی میتوں کی منتقلی کے عمل میں تعاون کیا۔

پمز میں 26 اگست کی صبح مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر قائم نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ واقعے کے بعد ہسپتال میں موجود دیگر بچوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

معلومات کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی میتیں واقعے کے روز ہی ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی تھیں، تاہم ’علی‘ نامی بچے کی میت وصول کرنے کے لیے کوئی شخص موجود نہیں تھا۔ بچے کو تقریباً دو ماہ قبل پیدائش کے بعد پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ نرسری میں چھوڑ دیا گیا تھا، جہاں وہ دیگر بیمار بچوں کے ساتھ زیر علاج تھا۔

واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کی عبوری رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں کارروائی کا حکم بھی دیا۔ 29 اگست کو وزیراعظم نے پمز اور متعلقہ اداروں کے آٹھ افسران کو معطل کرکے ان کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی۔

پمز نرسری میں پیش آنے والی آتشزدگی نے ہسپتالوں میں نومولود بچوں کی حفاظت، فائر سیفٹی انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ واقعے کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ ذمہ داروں کے تعین اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

More News