اسلام آباد: ملک بھر میں مہنگائی کی رفتار میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور ایک ہفتے کے دوران متعدد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0.79 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ بنیادوں پر یہ شرح بڑھ کر 15.16 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیرِ جائزہ ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 14 اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15 اشیا کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔ سب سے زیادہ اضافہ چکن کی قیمت میں ریکارڈ کیا گیا، جو ایک ہفتے میں 48 روپے 40 پیسے فی کلو مہنگا ہو گیا۔ اسی طرح آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت میں بھی 74 روپے 75 پیسے تک اضافہ سامنے آیا، جس سے گھریلو بجٹ مزید متاثر ہوا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈیزل 19 روپے 47 پیسے فی لیٹر جبکہ پیٹرول 6 روپے 56 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا۔ اس کے علاوہ دہی کی قیمت میں 4 روپے، تازہ دودھ میں 2 روپے 77 پیسے اور بیف میں 8 روپے 3 پیسے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادارہ شماریات کے مطابق مٹن، آلو، چائے، کیلے، کوکنگ آئل، پاؤڈر ملک اور سگریٹ بھی مہنگی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں، جس کے باعث عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب کچھ اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی، جن میں ٹماٹر، لہسن، انڈے، دال مسور، پیاز اور دال ماش شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چکن، پیٹرولیم مصنوعات، خام تیل اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے نے ہفتہ وار مہنگائی پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آنے والے ہفتوں میں عوام پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔








