خیبر پختونخوا کی مسیحی برادری کا متفقہ مطالبہ ،مسیحی شادیوں سے متعلق نیا جامع قانون بنایا جائے

خیبر پختونخوا کی مسیحی برادری کا متفقہ مطالبہ ،مسیحی شادیوں سے متعلق نیا جامع قانون بنایا جائے

پشاور: جنید طورو

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور بلو وینز کے تعاون سے پشاور میں مسیحی شادی ایکٹ کے حوالے سے ایک اہم صوبائی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف چرچز کے مذہبی رہنماؤں، خواتین، لڑکیوں، انسانی حقوق کے کارکنان، میڈیا نمائندگان، اراکین صوبائی اسمبلی، قانونی ماہرین اور اقلیتی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد خیبر پختونخوا میں مسیحی شادیوں اور خاندانی قوانین سے متعلق جامع صوبائی قانون سازی کی فوری ضرورت پر غور کرنا تھا۔مشاورتی اجلاس کے دوران 1872 کے فرسودہ اور نوآبادیاتی دور کے مسیحی شادی ایکٹ پر تفصیلی بحث کی گئی اور اس قانون کے تحت شادیوں کی رجسٹریشن، رجسٹرارز کی تقرری، اختیارات کی منتقلی اور مسیحی عقائد و روایات کے مطابق شادیوں کے قانونی اعتراف سے متعلق درپیش مسائل کو اجاگر کیا گیا۔اقلیتی حقوق کے کارکن مسٹر ہارون سرب دیال نے مسیحی شادی ایکٹ 1872 کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے اس کے تاریخی پس منظر، اہم شقوں، عملی اطلاق میں درپیش چیلنجز اور نفاذ کے خلا پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ قانون موجود ہے، لیکن اس پر مؤثر اور یکساں عملدرآمد نہ ہونے کے باعث خیبر پختونخوا میں مسیحی خاندانوں کو شدید عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے شادی رجسٹرارز اور کنٹریکٹرز کی تقرری، رجسٹریشن کے اختیارات کی عدم منتقلی اور موجودہ سماجی و قانونی حقائق سے ہم آہنگ مقامی قانونی فریم ورک کی عدم موجودگی کو اہم مسائل قرار دیا، جن کا سب سے زیادہ اثر مسیحی خواتین اور لڑکیوں پر پڑتا ہے۔اجلاس کے دوران شرکاء نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ نوآبادیاتی دور کا یہ قانون موجودہ دور میں مسیحی برادری کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ اجلاس میں کئی مواقع پر جذباتی گفتگو، شدید مباحثے اور ذاتی تجربات کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا جہاں شرکاء نے قانونی رکاوٹوں، مسائل اور ایک جامع اور مذہبی اقدار سے ہم آہنگ قانون کی عدم موجودگی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ تمام شرکاء نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں مسیحی شادیوں اور خاندانی معاملات کے لیے ایک نیا جامع صوبائی قانون متعارف کرایا جائے۔شرکاء نے زور دیا کہ مجوزہ قانون مسیحی عقائد، بائبل کی تعلیمات، مذہبی اقدار اور خاندانی نظام کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے جبکہ آئینی حقوق، انسانی حقوق کے اصولوں اور بین الاقوامی قانونی معیارات سے بھی ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا برائے اقلیتی امور کے فوکل پرسن وزیر زادہ نے کہا کہ مسیحی برادری کو یہ آئینی حق حاصل ہے کہ ان کے خاندانی قوانین ان کے مذہب، وقار اور شناخت کا احترام کریں۔ صوبائی حکومت اس مسئلے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے اور اس نوعیت کے مشاورتی اجلاس اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں کہ مستقبل کی قانون سازی برادری کی خواہشات اور مذہبی اقدار کی عکاسی کرے۔قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے کوآرڈینیٹر رضوان اللہ نے کہا کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اقلیتی اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ اور قانونی اصلاحات کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اقلیتی برادریوں کے قانونی تحفظ کو مضبوط بنانے اور ایسے خاندانی قوانین کے فروغ کے لیے پرعزم ہے جو جامع، حقوق پر مبنی اور برادری کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔بلو وینز کے قمر نسیم نے کہا کہ قانون سازی کے عمل میں مشاورت اور برادری کی شمولیت انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشاورتی عمل اس وسیع کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد مسیحی خواتین، لڑکیوں، مذہبی رہنماؤں اور کمیونٹی نمائندوں کی آواز کو مؤثر انداز میں شامل کرنا ہے۔ مستقبل کی کوئی بھی قانون سازی بامعنی مکالمے کے ذریعے سامنے آنی چاہیے اور اسے برادری کے مذہبی عقائد اور موجودہ سماجی حقائق دونوں کی نمائندگی کرنی چاہیے۔فادر جوزف جان نے بھی اس امر پر زور دیا کہ مجوزہ قانون کی تیاری سے قبل تمام چرچز، مذہبی فرقوں اور کمیونٹی نمائندوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہایت ضروری ہے کہ مجوزہ قانون مشاورت، غور و فکر اور مسیحی برادری کے اتفاق رائے سے تشکیل پائے تاکہ اس کی قبولیت اور مؤثریت یقینی بنائی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور بلو وینز کی جانب سے جاری مشاورتی عمل پر اعتماد کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مجوزہ قانون سازی کے عمل میں اپنی تجاویز، تکنیکی معاونت اور کمیونٹی فیڈبیک فراہم کرتے رہیں گے تاکہ مستقبل کا قانون مسیحی عقائد، آئینی ضمانتوں، بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں اور خیبر پختونخوا کی مسیحی برادری کی موجودہ سماجی و قانونی ضروریات سے مکمل ہم آہنگ ہو۔

More News