بریت کے باوجود پولیس بھرتی سے نااہلی غیر قانونی قرار، 6 اہم اصول طے

بریت کے باوجود پولیس بھرتی سے نااہلی غیر قانونی قرار، وفاقی آئینی عدالت نے 6 اہم اصول طے کردیے

محض ایف آئی آر کا اندراج سرکاری ملازمت سے محرومی کی بنیاد نہیں بن سکتا، بری ہونے والے امیدوار کی امیدواری بحال، 30 دن میں تعیناتی کا حکم

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے دوران امیدواروں کے سابقہ مقدمات اور کردار کی جانچ پڑتال سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے 6 اصول طے کردیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ محض کسی شخص کے خلاف ایف آئی آر درج ہونا اسے سرکاری ملازمت کے لیے خودبخود نااہل قرار دینے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا، جبکہ عدالتی بریت کے بعد امیدوار کو محض شبہ کی بنیاد پر بھرتی سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے پولیس میں ڈرائیور کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے بریت کے باوجود امیدوار کو بھرتی سے نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن اور لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

تحریری فیصلے میں قرار دیا گیا کہ کسی امیدوار کے کردار کے حوالے سے منفی رائے قائم کرنے کے لیے قیاس آرائی یا غیر مصدقہ معلومات کافی نہیں، بلکہ مستند اور قابلِ تصدیق شواہد ضروری ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ امیدوار کی عدالتی بریت کو تسلیم کرنا ہوگا اور اس کی اہلیت و پس منظر کا معروضی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق بری ہونے کے بعد سابقہ مقدمے کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں منفی انداز میں ظاہر نہیں کیا جاسکتا، جبکہ زیرِ سماعت مقدمات کا ذکر صرف ان کی موجودہ قانونی حیثیت تک محدود رہنا چاہیے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کسی امیدوار کو سماعت کا موقع دیے بغیر اور معقول وجوہات فراہم کیے بغیر عام طور پر بھرتی سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ سرکاری ملازمتوں میں تقرری کے تمام فیصلے میرٹ، قانون، انصاف اور آئین میں دیے گئے مساوات کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی آر کا اندراج جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں اور نہ ہی اس بنیاد پر کسی شخص کو مجرم تصور کیا جاسکتا ہے۔

کیس کے مطابق درخواست گزار عبداللطیف نے ڈرائیور کانسٹیبل کی میرٹ لسٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ انہیں 2018 میں ایک مقدمے سے بری کیا جاچکا تھا اور ان کے پاس کلین پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا، اس کے باوجود محکمہ پولیس نے انہیں بھرتی کرنے سے انکار کردیا تھا۔

عدالت نے درخواست گزار کی امیدواری بحال کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو 30 دن کے اندر طبی معائنہ اور دیگر قانونی کارروائی مکمل کرکے تعیناتی کا حکم جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ڈی جی خان پولیس کے جاری کردہ کریکٹر سرٹیفکیٹ کو ٹھوس وجوہات کے بغیر نظرانداز کرنا قانونی بدنیتی اور اختیارات کے غیر قانونی استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔

عدالت نے قرآنی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی واضح کیا کہ کسی شخص کے خلاف منفی فیصلہ کرنے کے لیے شبہ نہیں بلکہ تصدیق شدہ حقائق اور شواہد ضروری ہیں۔

More News