بلوچستان میں نئے صوبوں کے ساتھ چھوٹے ڈویژنز اور اضلاع بنانا بھی ضروری ہے، سرفراز بگٹی

بلوچستان میں نئے صوبوں کے ساتھ چھوٹے ڈویژنز اور اضلاع بنانا بھی ضروری ہے، سرفراز بگٹی

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں عوام کی دہلیز پر سرکاری اداروں کی موجودگی یقینی بنانے کے لیے چھوٹے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ چھوٹے ڈویژنز اور اضلاع بنانا بھی وقت کی ضرورت ہے۔

سرفراز بگٹی کے مطابق بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو سرکاری دفاتر اور بنیادی سہولیات تک رسائی کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ انتظامی یونٹس کو چھوٹا کرنے سے عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں تک پہنچنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے انتظامی ڈھانچے میں بہتری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی اداروں کی عوام تک رسائی مؤثر طرز حکمرانی کے لیے اہم ہے۔ چھوٹے اضلاع اور ڈویژنز کے قیام سے مقامی سطح پر انتظامی امور کی نگرانی، عوامی شکایات کے ازالے اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں بہتری لانے کے امکانات موجود ہیں۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آبادی کا پھیلاؤ، طویل فاصلے اور دشوار گزار جغرافیائی حالات انتظامی امور کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ ایسے میں مقامی سطح پر سرکاری اداروں کی موجودگی صحت، تعلیم، امن و امان اور دیگر بنیادی خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق کسی بھی فیصلے میں آبادی، جغرافیائی حدود، مالی وسائل، انتظامی ضروریات اور مقامی آبادی کی سہولتوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔ اس کے علاوہ نئے اضلاع اور ڈویژنز کے لیے دفاتر، عملے اور بجٹ کی فراہمی بھی اہم معاملہ ہے۔

بلوچستان میں نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کے ساتھ چھوٹے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر وزیراعلیٰ کا بیان انتظامی اصلاحات سے متعلق بحث کو اہمیت دیتا ہے۔ تاہم، نئے صوبوں، ڈویژنز اور اضلاع کے قیام کے لیے کسی حتمی منصوبے، مجوزہ حدود یا ٹائم لائن کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

More News