بھارتی پنجاب کےوزیراعلیٰ نےمودی کا مکروہ چہرہ بےنقاب کردیا

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے مودی حکومت پر سنگین الزامات عائد کر دیے

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کئی سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ ایک نجی بھارتی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جہاں بھی انتخابات لڑتی ہے وہاں نفرت، فساد اور دھماکوں کی سیاست کو فروغ دیا جاتا ہے۔

بھگونت مان نے گفتگو کے دوران کہا کہ کسی بھی واقعے یا دھماکے کے چند لمحوں بعد بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان پر الزام عائد کر دیا جاتا ہے، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کا پرانا سیاسی طریقہ کار بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سیاست خاص طور پر گجرات ماڈل کی عکاسی کرتی ہے، جہاں خوف اور نفرت کی فضا پیدا کرکے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ پنجاب کے عوام نفرت اور تقسیم کی سیاست کو قبول کریں گے۔ ان کے مطابق پنجاب ہمیشہ بھائی چارے، محبت اور امن کی سرزمین رہا ہے اور یہاں نفرت کے بیج بونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ سیاسی اتحاد کرنے والی کئی جماعتیں ماضی میں نقصان اٹھا چکی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام اب نفرت پر مبنی سیاست کو مسترد کر رہے ہیں اور ترقی، روزگار اور عوامی فلاح کے ایجنڈے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

بھگونت مان نے اپنی حکومت کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق تعلیم، صحت اور دیگر عوامی خدمات کے شعبوں میں بہتری لانے کے لیے حکومت مسلسل کام کر رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بھگونت مان کا یہ بیان بھارتی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت تناؤ پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات آئندہ انتخابات اور سیاسی ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

More News