دنیا کا وہ عجیب مقام جہاں بے جان پتھر خودبخود سرکتے ہیں، اس کا راز کیا ہے؟

دنیا کا عجیب مقام جہاں بھاری پتھر خودبخود سرکتے ہیں، سائنسدانوں نے معمہ حل کرلیا

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ڈیتھ ویلی میں 200 کلوگرام سے زائد وزنی پتھر اپنی جگہ سے سرک کر پیچھے طویل نشانات چھوڑ جاتے ہیں، حرکت کی وجہ برف کی پتلی تہہ اور تیز ہوائیں ہیں۔

دنیا میں کئی ایسے مقامات موجود ہیں جہاں قدرت کے حیران کن مظاہر انسان کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں، ایسا ہی ایک عجیب مقام امریکی ریاست کیلیفورنیا میں واقع ڈیتھ ویلی نیشنل پارک ہے، جہاں بھاری بھرکم چٹانی پتھر بظاہر خودبخود اپنی جگہ سے سرکتے ہیں اور خشک زمین پر اپنے پیچھے لمبے نشانات چھوڑ جاتے ہیں۔

اس پراسرار مقام کو ریس ٹریک پلایا (Racetrack Playa) کہا جاتا ہے، جو ایک خشک جھیل کی تہہ پر مشتمل ہے۔ یہاں موجود چٹانی پتھروں کو سیلنگ اسٹونز (Sailing Stones) کا نام دیا گیا ہے۔ ان پتھروں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بغیر کسی انسانی مدد کے اپنی جگہ سے حرکت کرتے ہیں۔ بعض پتھروں کا وزن 200 کلوگرام سے بھی زیادہ ہوتا ہے جبکہ ان کی حرکت سے زمین پر سینکڑوں فٹ طویل نشانات بن جاتے ہیں۔

طویل عرصے تک سائنسدانوں کے لیے یہ ایک معمہ بنا رہا کہ آخر اتنے بھاری پتھر کیسے حرکت کرتے ہیں، کیونکہ کسی شخص نے انہیں عام حالات میں اپنی آنکھوں کے سامنے سرکتے نہیں دیکھا تھا۔

تاہم 2014 میں دو سائنسدانوں نے ٹائم لیپس فوٹوگرافی کے ذریعے ان پتھروں کی حرکت ریکارڈ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے تقریباً 60 پتھروں کو آہستہ آہستہ حرکت کرتے دیکھا اور اس پراسرار مظہر کی سائنسی وجہ بھی سامنے آگئی۔

سائنسدانوں کے مطابق سردیوں میں بارش کے بعد خشک جھیل کی سطح پر پانی جمع ہوجاتا ہے، جو رات کے وقت سرد درجہ حرارت کے باعث برف کی انتہائی پتلی تہہ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ دن کے وقت سورج نکلنے سے برف پگھلنا شروع ہوتی ہے اور پانی کی سطح پر برف کے بڑے مگر باریک ٹکڑے تیرنے لگتے ہیں۔

اس دوران تیز ہوائیں برف کے ان ٹکڑوں کو دھکیلتی ہیں، جس کے نتیجے میں یہ برف بھاری چٹانی پتھروں کو بھی آہستہ آہستہ آگے سرکانے لگتی ہے۔ سائنسدانوں نے اس عمل کو آئس شوو (Ice Shove) کا نام دیا ہے۔

ڈیتھ ویلی نیشنل پارک کی انتظامیہ کے مطابق یہ قدرتی عمل مخصوص موسمی حالات میں سردیوں کے دوران پیش آتا ہے۔ اگر مناسب بارش اور سرد موسم نہ ہو تو پتھر کئی سال تک اپنی جگہ ساکن رہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیتھ ویلی میں سالانہ اوسط بارش تقریباً دو انچ ہوتی ہے، اسی لیے ان پتھروں کی حرکت کا مشاہدہ انتہائی مشکل ہے۔ دسمبر سے فروری کے دوران ان کے نشانات دیکھے جاسکتے ہیں، تاہم اس قدرتی مظہر کا انحصار موسمی حالات پر ہوتا ہے۔

More News