جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹنے کا حکم، مظفرگڑھ میں پنچایت کے فیصلے پر چار افراد گرفتار
مظفرگڑھ میں پنچایت کے ایک متنازع فیصلے کے نتیجے میں چار افراد کی گرفتاری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پنچایت میں جوتے چومنے کی سزا کے طور پر جوتے چاٹنے کا حکم دیا گیا، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کر لیا۔
واقعے کے حوالے سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق پنچایت نے ایک تنازعے کے حل کے لیے توہین آمیز سزا تجویز کی تھی۔ اس فیصلے کے بعد معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچا، جس پر پولیس نے کارروائی کی۔ تاہم، واقعے کے پس منظر، متاثرہ افراد کی شناخت اور گرفتاریوں کی مکمل تفصیلات کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔
پاکستان میں ماضی میں بھی مظفرگڑھ کے مختلف علاقوں سے پنچایتوں کے فیصلوں کے ذریعے افراد کو تذلیل آمیز سلوک کا نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ جون 2023 میں شاہ جمال پولیس نے ایک پنچایت کے ذریعے نوجوان کو سزا دینے کے معاملے میں مقدمہ درج کیا اور تین افراد کو گرفتار کیا تھا۔
قانونی طور پر کسی مقامی پنچایت کا فیصلہ ملکی قوانین سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ کسی شخص کو زبردستی تذلیل آمیز عمل پر مجبور کرنا، تشدد کا نشانہ بنانا یا اس کی عزت و وقار کو نقصان پہنچانا قابلِ قانونی کارروائی ہو سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں پولیس کی ذمہ داری ہے کہ شکایت کی تحقیقات کرے اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔
موجودہ واقعے میں چار افراد کی گرفتاری سے متعلق مزید تفصیلات، مقدمے کی دفعات اور پولیس کا باضابطہ مؤقف سامنے آنے کے بعد معاملے کی قانونی حیثیت مزید واضح ہو سکے گی۔








