خلائی کچرے کی صفائی کے لیے برطانیہ کا منفرد منصوبہ، بڑے پنجوں والا روبوٹک جہاز تیار کرنے کا فیصلہ
زمین کے گرد گردش کرنے والے خلائی کچرے کی بڑھتی ہوئی مقدار سے نمٹنے کے لیے برطانیہ نے ایک منفرد منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے تحت بڑے پنجوں سے لیس ایک روبوٹک خلائی جہاز تیار کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد زمین کے مدار میں موجود ناکارہ سیٹلائٹس اور دیگر خلائی ملبے کو ہٹانے میں مدد فراہم کرنا ہے تاکہ مستقبل میں خلائی سرگرمیوں کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مختلف ممالک نے مواصلات، موسم کی پیش گوئی، نیویگیشن، سائنسی تحقیق اور دیگر مقاصد کے لیے ہزاروں سیٹلائٹس زمین کے مدار میں بھیجے ہیں۔ ان میں سے متعدد سیٹلائٹس اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ناکارہ ہو چکے ہیں، جبکہ راکٹوں کے پرزے اور دیگر باقیات بھی خلا میں موجود ہیں۔ یہ تمام اشیا خلائی کچرے میں شامل ہوتی ہیں، جو فعال سیٹلائٹس اور دیگر خلائی مشنز کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
خلائی کچرے کا مسئلہ اس لیے بھی سنگین ہے کہ زمین کے گرد مدار میں موجود اشیا انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کرتی ہیں۔ ایسے میں ملبے کے چھوٹے ذرات بھی کسی فعال سیٹلائٹ یا خلائی جہاز سے ٹکرا کر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس طرح کے تصادم سے مزید ٹکڑے پیدا ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے، جس سے مدار میں موجود خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
برطانیہ کے مجوزہ منصوبے میں روبوٹک خلائی جہاز کو بڑے پنجوں سے لیس کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے، جن کی مدد سے خلائی ملبے کو پکڑنے اور قابو میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس نوعیت کی ٹیکنالوجی مستقبل میں ناکارہ سیٹلائٹس کو محفوظ انداز میں پکڑنے اور انہیں زمین کے مدار سے ہٹانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔
تاہم، خلا میں موجود مختلف اشیا کو پکڑنا ایک پیچیدہ تکنیکی عمل ہے۔ ملبے کی رفتار، گردش، جسامت اور ساخت کو مدنظر رکھتے ہوئے روبوٹک نظام کو انتہائی درستگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ خلائی جہاز کو ملبے کے قریب پہنچنے، اسے مضبوطی سے پکڑنے اور محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کے لیے جدید رہنمائی اور کنٹرول سسٹم کی ضرورت ہوگی۔
ماہرین کے مطابق خلائی کچرے میں کمی کے لیے ایسے منصوبے مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ زمین کے مدار کو صاف رکھنے کی کوششیں نہ صرف موجودہ سیٹلائٹس کے تحفظ بلکہ آنے والی نسلوں کے خلائی مشنز کے لیے بھی ضروری ہیں۔ برطانیہ کا یہ منصوبہ اس عالمی کوشش کا حصہ بن سکتا ہے، جس کا مقصد خلا کو زیادہ محفوظ اور پائیدار بنانا ہے۔








