خیبرپختونخوا میں اسلحہ لائسنس رجحان میں خطرناک اضافہ، اعداد و شمار نے تشویش بڑھا دی
خیبرپختونخوا میں اسلحہ کلچر ایک بار پھر تیزی سے بڑھنے لگا ہے، جہاں بڑھتی ہوئی بدامنی، دہشت گردی کے خدشات، خاندانی دشمنیوں اور عدم تحفظ کے احساس نے شہریوں کو اسلحہ رکھنے کی جانب زیادہ مائل کر دیا ہے۔ اس رجحان میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور سماجی ڈھانچے پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
محکمہ داخلہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2024 سے مارچ 2026 تک خیبرپختونخوا بھر میں چار لاکھ سے زائد افراد نے اسلحہ لائسنس کے لیے درخواستیں جمع کرائیں، جن میں سے تین لاکھ چودہ ہزار آٹھ سو پچپن درخواستیں منظور کی گئیں۔ اس بڑے پیمانے پر لائسنس کے اجرا نے اسلحہ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو واضح کر دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسلحہ لائسنسوں کے اجرا سے صوبائی حکومت کو تین ارب روپے سے زائد کی آمدن بھی حاصل ہوئی ہے، جو اس نظام کے مالی پہلو کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ آمدن ایک ایسے رجحان کے بدلے میں حاصل ہو رہی ہے جو طویل المدتی سماجی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ اسلحہ لائسنس پشاور میں جاری کیے گئے، جہاں پینتالیس ہزار تین سو پچھتر افراد کو اجازت نامے دیے گئے۔ اس کے بعد سوات میں اکیس ہزار دو سو انیس، مردان میں اٹھارہ ہزار چار سو ستاسٹھ، صوابی میں چودہ ہزار نو سو باون، چارسدہ میں چودہ ہزار دو سو اناسی، بنوں میں بارہ ہزار تین سو بائیس، ڈیرہ اسماعیل خان میں گیارہ ہزار تین سو اکہتر، کوہاٹ میں گیارہ ہزار تین سو تیرہ اور نوشہرہ میں نو ہزار آٹھ سو انیس لائسنس جاری کیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صوبے میں اسلحہ ڈیلرشپ، مرمت، اسلحہ سازی اور شوٹنگ کلبوں کے رجحان میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس دوران ایک ہزار چھ سو اکیاون درخواستیں اسلحہ کاروبار سے متعلق موصول ہوئیں جن میں سے ایک ہزار تین سو پچانوے منظور کی گئیں، جبکہ آٹھ شوٹنگ کلبوں کو بھی لائسنس جاری کیے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلحہ رکھنے کا بڑھتا ہوا رجحان صرف تحفظ کے احساس تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ سماجی حیثیت اور طاقت کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اسلحے کی آسان دستیابی معمولی تنازعات کو بھی سنگین اور جان لیوا جھگڑوں میں تبدیل کر سکتی ہے، جو مستقبل میں امن و امان کی صورتحال کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو بروقت منظم نہ کیا گیا تو اس کے معاشرتی اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں، جس سے صوبے میں امن کی کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔








