خیبرپختونخوا کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کا سفر جاری رکھیں گے: وزیراعظم
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی ترقی اور صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان ہم آہنگی کو مزید بہتر بنا کر عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کے حل اور ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تعاون اور رابطہ مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
ملاقات میں وفاق اور صوبے کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مزید کوششوں پر بھی زور دیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ بھی موجود تھے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے بھی ملاقات کی۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو حالیہ مون سون سیزن کے دوران شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے پیشگی انتظامات پر بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں عوام کو ہر ممکن امداد اور ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مؤثر بنانے کے لیے باہمی رابطہ مزید بہتر کیا جائے۔
شہباز شریف نے بارشوں کے دوران رابطہ سڑکوں اور پلوں پر ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور امدادی سامان کی بروقت ترسیل ممکن بنائی جاسکے۔
وزیراعظم نے شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ اور مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات کی صورت میں عوام کے جان و مال کے تحفظ اور فوری ریلیف کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔







