دریائے سوات میں نہانے اور غیر قانونی بوٹنگ پر ایک ماہ کیلئے پابندی عائد
سوات: ضلعی انتظامیہ نے دریائے سوات اور اس کی ذیلی ندیوں میں نہانے، پکنک منانے اور غیر قانونی بوٹنگ پر ایک ماہ کیلئے پابندی عائد کردی ہے۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سوات سہیل احمد خان کی جانب سے پابندی کا باقاعدہ حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے، جس کے تحت ضلع بھر میں دریائے سوات اور اس سے منسلک ذیلی ندیوں میں عوام اور سیاحوں کی جانب سے نہانے اور پکنک سمیت بعض تفریحی سرگرمیوں پر فوری طور پر پابندی نافذ کردی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام دریائے سوات میں ڈوبنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ممکنہ جانی نقصان کے خدشے کے پیش نظر عوامی مفاد میں اٹھایا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دریاؤں میں پانی کی صورتحال اور دیگر خطرات کے باعث لوگوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی کا اطلاق دریائے سوات کے ساتھ ساتھ اس کی ذیلی ندیوں پر بھی ہوگا۔ اس دوران شہریوں اور سیاحوں کو دریاؤں میں نہانے، پکنک منانے اور غیر قانونی بوٹنگ سے روک دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ پابندی کا مقصد صرف ممکنہ حادثات سے انسانی جانوں کا تحفظ نہیں بلکہ دریاؤں کے پانی کو آلودگی سے محفوظ رکھنا بھی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق دریاؤں اور ان کے اطراف میں غیر ضروری سرگرمیوں سے حادثات کے خطرات بڑھنے کے ساتھ ساتھ ماحول اور پانی کی صفائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
حکم نامے کے تحت پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہوگئی ہے اور آئندہ 30 دن تک جاری رہے گی۔ اس دوران انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے پابندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔
نوٹیفکیشن میں شہریوں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پابندی کی خلاف ورزی سے گریز کریں اور دریائے سوات یا اس کی ذیلی ندیوں میں نہانے اور دیگر ممنوعہ سرگرمیوں سے دور رہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ حکم نامے کے مطابق خلاف ورزی کی صورت میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 سمیت دیگر مروجہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں اور سیاحوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے پابندی کے دوران دریاؤں میں جانے اور ممنوعہ سرگرمیوں سے اجتناب کریں۔








