دنیا کا سب سے گہرا غار، زمین کے اندر 2 ہزار میٹر سے زائد گہرائی میں پراسرار دنیا
جارجیا: دنیا بھر میں موجود غاروں میں کچھ اپنی وسعت، کچھ اپنی خوبصورتی اور کچھ اپنی غیر معمولی گہرائی کے باعث شہرت رکھتے ہیں، تاہم مغربی قفقاز کے گاگرا پہاڑی سلسلے کے نیچے موجود ویریوو کینا غار اپنی غیر معمولی گہرائی کے باعث دنیا بھر کے ماہرین کی توجہ کا مرکز ہے۔
ویریوو کینا جارجیا کے متنازع خطے ابخازیا میں واقع ہے اور اسے دنیا کے گہرے ترین غاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ دنیا کے سب سے گہرے غار کے اعزاز پر ماہرین کے درمیان مختلف اوقات میں اختلاف رہا ہے، تاہم جنوری 2026 میں ویریوو کینا کی گہرائی 2212 میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ اسی خطے میں موجود کروبیرا غار کی گہرائی 2199 میٹر بتائی جاتی ہے۔
یہ دونوں غاریں 2 ہزار میٹر سے زیادہ گہرائی تک زیرِ زمین پھیلی ہوئی ہیں اور ان کے اندر چونے کے پتھر سے بنے پیچیدہ راستوں اور وسیع غاروں کا ایک ایسا نظام موجود ہے جو ماہرینِ غار کی تحقیق کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
ویریوو کینا کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے زیرِ زمین حجم میں برطانیہ کے مشہور پہاڑ بین نیوس کو الٹا رکھ دیا جائے تو بھی کافی جگہ باقی رہ جائے گی۔
غار کے اندر جیسے جیسے گہرائی بڑھتی جاتی ہے، ماحول مزید تاریک اور دشوار ہوجاتا ہے۔ یہاں درجہ حرارت بمشکل 3 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہوتا ہے، جبکہ مکمل تاریکی کے باعث یہاں رہنے والے جانداروں میں بھی منفرد جسمانی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
غاروں کی گہرائی میں پائے جانے والے متعدد جانداروں کی آنکھیں نہیں ہوتیں، جبکہ بعض کے جسم پر لمبے اینٹینا اور بال نما ساختیں ہوتی ہیں، جن کی مدد سے وہ ارتعاش محسوس کرتے اور تاریک ماحول میں راستہ تلاش کرتے ہیں۔
ویریوو کینا کو 1968 میں دریافت کیا گیا تھا اور ابتدا میں اسے S-115 کا نام دیا گیا۔ بعد ازاں 1986 میں غاروں کی کھوج کرنے والے الیگزینڈر ویرو کین کے نام پر اسے ویریوو کینا کا نام دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق ویریوو کینا اور کروبیرا سمیت اس خطے میں انتہائی گہری غاروں کی موجودگی کی بنیادی وجہ یہاں موجود چونے کے پتھر اور پانی کا قدرتی بہاؤ ہے۔ کروڑوں سال کے دوران پانی نے چٹانوں میں راستے بنائے، جس کے نتیجے میں زیرِ زمین وسیع اور گہرے غاروں کا نظام تشکیل پایا۔
سائنسدانوں کے مطابق اس علاقے کی چٹانوں کی ساخت ایسی ہے کہ پانی کے لیے زمین کے اندر عمودی سمت میں نیچے جانا نسبتاً آسان رہا، جس نے یہاں دنیا کی گہری ترین غاروں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔







