رواں مالی سال معاشی بحالی کی توقع، اکتوبر میں مہنگائی 10.5 فیصد تک رہنے کا امکان

رواں مالی سال معاشی بحالی کی توقع، اکتوبر میں مہنگائی 10.5 فیصد تک رہنے کا امکان

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں رواں مالی سال کے دوران ملک میں معاشی بحالی کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زرعی پیداوار میں بہتری معیشت کو سہارا دے سکتی ہے، جبکہ اکتوبر میں مہنگائی کی شرح ساڑھے 9 سے ساڑھے 10 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ میں ملکی معیشت کی مجموعی صورتحال، اہم اقتصادی اشاریوں اور مستقبل کے امکانات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے کی کارکردگی میں بہتری معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ زراعت پاکستان کی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے، جو غذائی ضروریات پوری کرنے، روزگار فراہم کرنے اور مختلف صنعتوں کو خام مال مہیا کرنے میں معاون ہے۔

زرعی پیداوار میں اضافے سے غذائی اجناس کی دستیابی بہتر ہونے اور بعض اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم مہنگائی کی اصل صورتحال کا انحصار رسد، طلب، توانائی کی قیمتوں، نقل و حمل کے اخراجات اور دیگر معاشی عوامل پر بھی ہوگا۔

رپورٹ میں اکتوبر کے دوران مہنگائی کی شرح ساڑھے 9 سے ساڑھے 10 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ مہنگائی کی شرح میں تبدیلی عام شہریوں کی قوت خرید اور گھریلو اخراجات پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ اشیائے ضروریہ، بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر بنیادی خدمات کی قیمتیں عوامی اخراجات کا اہم حصہ ہیں۔

معاشی بحالی کے امکانات کے باوجود مہنگائی پر قابو پانا، روزگار کے مواقع بڑھانا اور کاروباری سرگرمیوں کو مستحکم رکھنا اہم چیلنجز رہیں گے۔ معاشی استحکام کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ، پیداواری شعبوں کی ترقی اور مالیاتی نظم و ضبط بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں ظاہر کی گئی توقعات معاشی رجحانات کا اندازہ فراہم کرتی ہیں، تاہم حتمی نتائج کا انحصار آئندہ مہینوں میں ملکی اور عالمی معاشی حالات پر ہوگا۔ مہنگائی کے حقیقی اعداد و شمار اور زرعی پیداوار کی کارکردگی سامنے آنے کے بعد معاشی بحالی کی رفتار کا مزید واضح اندازہ لگایا جا سکے گا۔

More News