زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے کاروباروں کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی پر وزیراعظم کا کارروائی کا عندیہ
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعلقہ حکام نے حکومتی اقدامات اور بینکوں کی کارکردگی پر بریفنگ دی۔
شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، ہاؤسنگ اور زراعت کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ ان شعبوں کو فروغ دے کر ملکی معیشت بہتر بنانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے قرضوں کی فراہمی میں اچھی کارکردگی دکھانے والے بینکوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسانوں، کاروباری افراد اور وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت صارفین کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی اختیار کرنے والے بینکوں کے ساتھ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کسی قسم کی رعایت نہ برتیں۔
انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی ترقی میں بینکوں کا کردار کلیدی ہے اور ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی کے لیے حکومت اور بینکوں کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت، برآمدات کے فروغ اور روزگار کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ زرعی اجناس میں ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنا گھر اسکیم سے تعمیراتی شعبے اور اس سے منسلک صنعتوں کو بھی فروغ ملے گا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے کاروباروں سے وابستہ فریقین کے مالیاتی مسائل حل کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کو بھی چھوٹے کاروباروں اور برآمد کنندگان کے ٹیکس مسائل مل کر حل کرنے کی ہدایت کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے لیے ضوابط میں بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان خطرات اور اخراجات کی شراکت داری اور ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ سمیت تین بنیادی نکات پر کام کر رہا ہے۔








