سانحہ پمز پر وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا سخت مؤقف، کہا: خود کو ذمہ دار سمجھتا ہوں
اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز ہسپتال کی نرسری میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ پمز کی کوئی وضاحت نہیں، وہ خود کو اس واقعے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور احتساب کے لیے پیش بھی کردیا ہے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 14 نومولود بچوں کی جانوں کا ضیاع انتہائی دلخراش واقعہ ہے اور اس حوالے سے کوئی وضاحت قابل قبول نہیں ہوسکتی۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ سانحے کی انکوائری رپورٹ کا انتظار کیا جائے، رپورٹ سامنے آنے کے بعد واقعے کے ذمہ دار کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خود کو ذمہ دار سمجھتے ہوئے وہ احتساب کے لیے پیش ہوچکے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے پارلیمانی کمیٹی کے قیام پر اعتراض نہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف کمیٹیاں بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اگر 40 دن تک بھی معاملہ صرف کمیٹیوں تک محدود رہا تو اس سے کوئی عملی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔
وزیر صحت نے نظام صحت کی صورتحال پر بھی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “نظام سڑ گیا، گل گیا، اسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ وزارتوں اور عہدوں سے زیادہ اہم انسانی جانوں کا تحفظ ہے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اصلاحات ضروری ہیں۔
وفاقی وزیر نے ملک میں زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ روزانہ بڑی تعداد میں بچوں کی اموات ہورہی ہیں جبکہ ہر سال ہزاروں خواتین دورانِ زچگی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے مل کر ایسے اقدامات کریں جن سے مستقبل میں بچوں اور ماؤں کی جانیں بچائی جاسکیں اور صحت کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جاسکے۔








