سعودی عرب پر حملوں سے عالمی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایف کا انتباہ
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے ممکنہ معاشی اثرات کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان واقعات کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے مہنگائی میں اضافے کے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے بینکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب عالمی اقتصادی نظام میں اہم مقام رکھتا ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی صورتحال کے منفی اثرات دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔
ان کے مطابق خطے میں کشیدگی عالمی معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے، جبکہ معاشی سرگرمیوں، تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
سعودی عرب عالمی توانائی منڈی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے وہاں سکیورٹی کی صورتحال میں بگاڑ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھا سکتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ نقل و حمل، پیداواری لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے، جس سے مختلف ممالک میں مہنگائی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
عالمی معیشت پہلے ہی متعدد معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں خطے میں مزید کشیدگی اقتصادی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر سکتی ہے۔ تاہم عالمی معیشت پر ان حملوں کے حقیقی اثرات کا انحصار صورتحال کی شدت، دورانیے اور توانائی کی عالمی منڈیوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر ہوگا۔








