سعودی عرب کا گوادر سمیت پاکستان کے بحری شعبے میں سرمایہ کاری کا عندیہ

سعودی عرب کا گوادر سمیت پاکستان کے بحری شعبے میں سرمایہ کاری کا عندیہ

سعودی عرب نے پاکستان کے بحری شعبے، خصوصاً گوادر پورٹ اور دیگر اہم بندرگاہی منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جسے دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے پاک سعودی مشترکہ بزنس کونسل کے ساتھ ایک آن لائن اجلاس کی صدارت کی، جس میں سعودی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو پاکستان کے بحری شعبے میں موجود سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کے بیڑے میں توسیع کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور سعودی سرمایہ کاروں کو شراکت داری کی دعوت دی گئی۔

وزیر بحری امور نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا میری ٹائم سیکٹر سعودی سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق بندرگاہوں، لاجسٹکس، شپنگ، بلیو اکانومی اور ساحلی ترقی کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کی بھرپور گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی وژن 2030 اور پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے درمیان قریبی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اجلاس کے دوران گوادر پورٹ سمیت پاکستان کی تمام بڑی بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزیر بحری امور نے بتایا کہ کراچی پورٹ پر میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ منصوبہ سرمایہ کاری کے لیے دستیاب ہے، جبکہ پورٹ قاسم میں ایک جدید کثیرالمقاصد کارگو ٹرمینل کے قیام کے مواقع بھی موجود ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انرجی سٹی منصوبہ سعودی سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش مواقع فراہم کر سکتا ہے، جبکہ کورنگی فش ہاربر میں ایکوا ریسرچ پارک کے قیام کی پیشکش بھی سعودی وفد کے سامنے رکھی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں میں سرمایہ کاری سے نہ صرف پاکستان کی بندرگاہی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔

More News