سعودی وزارت داخلہ کا شہریوں اور غیر ملکیوں کے لیے ہنگامی انتباہ

سعودی وزارت داخلہ کا شہریوں اور غیر ملکیوں کے لیے ہنگامی انتباہ

ریاض: سعودی وزارت داخلہ نے مملکت کے شہریوں اور غیر ملکی مقیم افراد کے لیے اہم اور ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں روکنے کے مناظر کی ویڈیوز اور تصاویر بنانے سے خبردار کیا ہے۔ وزارت کے مطابق ایسے حساس دفاعی مناظر کو سوشل میڈیا یا دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شیئر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام کی کارروائی، میزائلوں یا ڈرونز کو فضا میں روکنے کے مناظر کی فلم بندی یا تصاویر بنانا قومی سلامتی سے متعلق حساس معاملہ ہے۔ وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ دفاعی کارروائیوں سے متعلق مواد کو عوامی سطح پر پھیلانے سے سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

وزارت داخلہ کا یہ انتباہ سعودی شہریوں کے ساتھ ساتھ مملکت میں مقیم تمام غیر ملکیوں پر بھی لاگو ہوگا۔ حکام نے شہریوں اور غیر ملکی باشندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے مناظر کی ریکارڈنگ سے مکمل طور پر گریز کریں اور کسی بھی حساس دفاعی مواد کو سوشل میڈیا، میسجنگ ایپس یا دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر شیئر نہ کریں۔

حکام کے مطابق قومی سلامتی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور ممنوعہ مواد بنانے یا اسے نشر کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ وزارت داخلہ نے اس حوالے سے عوام کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے پر زور دیا ہے۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان حالیہ دنوں میں دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے بھی اہم رابطے ہوئے ہیں۔ تینوں ممالک نے سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

سعودی حکام کی جانب سے شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ ہنگامی یا سیکیورٹی صورتحال میں صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی اطلاعات پر اعتماد کریں۔ غیر مصدقہ تصاویر اور ویڈیوز کو آگے پھیلانے سے گریز کیا جائے، خصوصاً ایسی معلومات جو فوجی تنصیبات، فضائی دفاع یا سیکیورٹی کارروائیوں سے متعلق ہوں۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں قوانین کی پابندی ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ شہریوں اور غیر ملکی مقیم افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ دفاعی کارروائیوں کے مناظر کو ریکارڈ یا شیئر کرنے کے بجائے متعلقہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔

More News