سہیل آفریدی کا اسٹیٹس آف لائن، حفاظتی تحویل میں ہونے کی تصدیق
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا اسٹیٹس آف لائن دکھائی دے رہا ہے، جبکہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے بعد ان کی موجودہ صورتحال سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے سہیل آفریدی اور کابینہ کے بعض ارکان کے حفاظتی تحویل میں ہونے کی تصدیق بھی سامنے آ چکی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 11 اکتوبر کو پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سہیل آفریدی سمیت جس شخص کی ضرورت ہوئی، اسے حفاظتی تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اس کے بعد 12 اکتوبر کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے تصدیق کی کہ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان حفاظتی تحویل میں ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد کیا گیا۔
سہیل آفریدی کی صورتحال ایسے وقت میں اہمیت اختیار کر گئی ہے جب خیبرپختونخوا میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے امن و امان اور دہشت گردی سے متعلق خدشات کو بنیاد بنایا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف اس اقدام پر اعتراضات اٹھا رہی ہے۔
سہیل آفریدی کی جانب سے تازہ بیان یا ان کی موجودہ صورتحال سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔ ان کا اسٹیٹس آف لائن دکھائی دینا بذاتِ خود ان کی موجودہ جگہ یا حالات کی تصدیق نہیں کرتا، تاہم حکومتی سطح پر حفاظتی تحویل میں ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال میں آئندہ حکومتی اقدامات اور متعلقہ رہنماؤں کے بیانات اہم ہوں گے۔ فی الحال سرکاری حکام کے مطابق سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، جبکہ ان کی سیاسی جماعت اور دیگر حلقوں کا ردعمل بھی اس معاملے کو مزید اہم بنا رہا ہے۔








