سہیل آفریدی کے نام شیر افضل مروت کا دوٹوک پیغام، پہلے اپنی حاضری یقینی بنائیں، کارکنوں کی تعداد بعد میں دیکھیں
شیر افضل مروت نے اپنے بیان میں کہا کہ ماضی کے مارچوں، جلسوں اور احتجاجی مظاہروں میں پارلیمنٹیرینز کی شرکت کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اچانک ایسا کون سا جذبہ بیدار ہوگیا ہے کہ جو لوگ خود احتجاج میں شریک نہیں ہو سکے، وہ بڑی تعداد میں کارکنوں کو لانے کی ذمہ داری کیسے پوری کریں گے؟
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جن افراد کی اپنی حاضری یقینی نہیں، انہیں ہزاروں افراد لانے کا ہدف دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی مفرور شخص کو بارات لانے کی ذمہ داری سونپ دی جائے۔
شیر افضل مروت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مشورہ دیا کہ پہلے پارلیمنٹیرینز کو اپنی شرکت یقینی بنانے کا پابند کیا جائے، اس کے بعد کارکنوں کی تعداد کا حساب کیا جائے۔ ان کے مطابق احتجاجی مارچوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے دعوے اپنی جگہ، تاہم ان دعوؤں کو عملی شکل دینے کے لیے ذمہ دار افراد کی موجودگی بھی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال اعلانات میں ہزاروں افراد لانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان افراد کو لانے کی ذمہ داری اٹھانے والے خود کہاں ہیں؟
شیر افضل مروت کے اس بیان میں احتجاجی مارچوں کی تیاری اور پارلیمنٹیرینز کے عملی کردار پر توجہ دلائی گئی ہے۔ فراہم کردہ خبر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا اس بیان پر ردعمل شامل نہیں ہے۔








