عمران خان کے بیٹوں کے پاس نائیکوپ موجود ہے، جب چاہیں پاکستان آ سکتے ہیں، خواجہ آصف

عمران خان کے بیٹوں کے پاس نائیکوپ موجود، جب چاہیں پاکستان آ سکتے ہیں، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سلیمان خان اور قاسم خان دونوں کے نائیکوپ کارڈز مؤثر ہیں، انہیں پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں، حکومت کی جانب سے ویزا نہ دینے کا تاثر درست نہیں۔

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان جب چاہیں پاکستان آ سکتے ہیں، کیونکہ دونوں کے پاس نائیکوپ (NICOP) موجود ہے اور ان کے کارڈز اب بھی مؤثر ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کے دونوں بیٹے آخری مرتبہ 2022 میں نائیکوپ پر پاکستان آئے تھے اور موجودہ صورتحال میں بھی وہ پاکستان کا سفر کر سکتے ہیں۔

وزیر دفاع کے مطابق نائیکوپ رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو پاکستان آنے کے لیے الگ ویزا درکار نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلیمان خان اور قاسم خان کے پاس مؤثر نائیکوپ کارڈز موجود ہیں، اس لیے انہیں پاکستان آنے کے لیے حکومت سے ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔

خواجہ آصف نے عمران خان کے خاندان یا پی ٹی آئی کی جانب سے یہ تاثر دیے جانے کو غلط قرار دیا کہ حکومت عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان آنے کے لیے ویزا جاری نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ نائیکوپ کی موجودگی میں دونوں افراد جب چاہیں پاکستان آ سکتے ہیں۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں سلیمان خان کے نائیکوپ کی میعاد بھی بتائی۔ ان کے مطابق سلیمان خان کا نائیکوپ 6 جنوری 2030 تک کارآمد ہے، جبکہ قاسم خان کا نائیکوپ 8 نومبر 2032 تک قابلِ استعمال ہے۔

حکومت اس سے قبل بھی عمران خان کے بیٹوں کو ویزا جاری نہ کرنے سے متعلق الزامات کی تردید کر چکی ہے۔ حکومتی مؤقف رہا ہے کہ دونوں افراد کے پاس پاکستانی شہریت سے متعلق نائیکوپ موجود ہونے کی صورت میں پاکستان آنے کے لیے ویزے کی شرط عائد نہیں ہوتی۔

دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان اس معاملے پر مختلف مؤقف اختیار کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دونوں بیٹوں کے نائیکوپ سے متعلق مسائل موجود ہیں، جن میں ایک کارڈ گم ہونے اور دوسرے کے نہ ملنے کا معاملہ شامل ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کے بیٹے اپنے والد کی صحت اور جیل میں انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے حوالے سے متعدد مرتبہ تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

چند روز قبل سلیمان خان اور قاسم خان نے ایک آن لائن بریفنگ میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر ان کے والد صحت مند ہیں تو ان کا آزادانہ طبی معائنہ کرایا جائے اور اس کے نتائج سامنے لائے جائیں۔ دونوں نے حکومت کو چیلنج کیا تھا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے شفاف ثبوت فراہم کیے جائیں۔

عمران خان کے بیٹوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے والد کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ان کے مطابق وہ عمران خان کی رہائی اور جیل میں مبینہ طور پر مناسب طبی سہولیات نہ ملنے کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کے لیے مغربی ممالک کی حکومتوں، ارکان پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کریں گے۔

قاسم خان نے بتایا تھا کہ انہوں نے امریکا میں پی ٹی آئی کے حامیوں سے بھی رابطہ کیا ہے اور کوشش کی گئی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک بھی یہ معاملہ پہنچایا جائے، تاہم ان کے بقول اس وقت امریکی صدر کی ترجیحات اور مفادات مختلف ہیں۔

یوں عمران خان کے بیٹوں کے پاکستان آنے کے معاملے پر حکومت اور خاندان کے مؤقف میں اختلاف برقرار ہے، جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ دونوں کے نائیکوپ مؤثر ہیں اور انہیں پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں۔

More News