فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ترکیہ میں سعودی وزیر دفاع اور ترک وزیر خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ترکیہ میں سعودی اور ترک حکام سے اہم ملاقاتیں

ملاقاتوں میں دفاعی تعاون، باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

ویب ڈیسک: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دورۂ ترکیہ کے دوران استنبول میں سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام سے اہم الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے استنبول میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان، ترک وزیر دفاع اور ترک جنرل اسٹاف کے سربراہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور سمیت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی و سیکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔ فریقین نے خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور مشترکہ مفادات سے متعلق معاملات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور دفاعی تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔

تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی روابط حالیہ عرصے میں مزید اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں دفاعی شعبے میں باہمی تعاون، علاقائی استحکام اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سعودی اور ترک حکام کے ساتھ ملاقاتوں کو پاکستان کے دونوں ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک روابط کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطح کے یہ روابط پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات اور بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک و دفاعی تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔

دورۂ ترکیہ کے دوران ہونے والی ان اہم ملاقاتوں سے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار ہوتا ہے، جبکہ علاقائی امن و استحکام کے لیے باہمی مشاورت اور تعاون جاری رکھنے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔

More News