پشاور: نادرن بائی پاس حملے میں زخمی اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے کے دم توڑنے کی اطلاعات

پشاور: نادرن بائی پاس حملے میں زخمی اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے کے دم توڑنے کی اطلاعات

پولیس پارٹی پر مسلح افراد کی فائرنگ اور دستی بم حملہ، دو حملہ آور ہلاک، دو ایس ایچ اوز سمیت اشتہاری مجرم زخمی

پشاور: نادرن بائی پاس پر پولیس پارٹی پر ہونے والے ہائی پروفائل حملے کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں حملے میں شدید زخمی ہونے والے اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے کے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم پولیس حکام کی جانب سے ممتازے کی ہلاکت کی تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

ذرائع کے مطابق واقعہ پشاور کے علاقے نادرن بائی پاس، تھانہ شاہ پور کی حدود میں پیش آیا، جہاں پولیس کی ایک ٹیم خطرناک اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے کو اپنی تحویل میں لے کر جا رہی تھی۔ اسی دوران پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے پولیس پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے اچانک شدید فائرنگ شروع کر دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کے ساتھ ساتھ دستی بم بھی پھینکے، جس کے باعث علاقے میں شدید فائرنگ اور خوف و ہراس کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اچانک ہونے والے حملے کے نتیجے میں پولیس افسران بھی زد میں آ گئے اور دو ایس ایچ اوز شدید زخمی ہوئے۔

حملے کے دوران پولیس کی تحویل میں موجود اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے بھی گولیوں کی زد میں آ کر شدید زخمی ہوگیا۔ پولیس اہلکاروں نے حملے کا فوری جواب دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دو مسلح حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

واقعے کے فوراً بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ زخمی پولیس افسران اور اشتہاری مجرم سمیت دیگر متاثرہ افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ممتاز عرف ممتازے کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اور وہ شدید زخمی ہونے کے باعث زیرِ علاج تھا۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ممتازے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ہے، تاہم اس حوالے سے پولیس حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ پولیس کی جانب سے تصدیق کے بعد ہی اس ہلاکت کی حتمی صورتحال واضح ہوسکے گی۔

دوسری جانب حملے کے بعد نادرن بائی پاس اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کرتے ہوئے حملے میں ملوث دیگر ممکنہ افراد اور سہولت کاروں کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔

سی سی پی او پشاور کے مطابق پولیس پارٹی پر حملے کے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ علاقے کی نگرانی اور سیکیورٹی اقدامات مزید بڑھا دیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی بھی ممکنہ سہولت کار کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔

واقعے کے بعد نادرن بائی پاس اور گردونواح میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے، جبکہ حملہ آوروں کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں۔

More News