لاہور فضائی آلودگی کے اعتبار سے دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست

لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست، ایئر کوالٹی انڈیکس 338 تک پہنچ گیا

لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہوگئی، شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا۔ فضائی آلودگی میں اضافے کے باعث شہریوں کو سانس لینے میں مشکلات اور مختلف طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جبکہ ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

محکمہ ماحولیات کے مطابق 5 نومبر 2026 کو لاہور میں سموگ کی اوسط شرح 338 ریکارڈ کی گئی، جو فضائی آلودگی کی انتہائی بلند سطح کو ظاہر کرتی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس کی صورتحال مزید خراب ریکارڈ کی گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایف سی کالج کے اطراف فضائی آلودگی کا انڈیکس 508 تک پہنچ گیا، جبکہ پیراگون سوسائٹی میں ایئر کوالٹی انڈیکس 548 ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں بھی فضائی آلودگی کی شرح 414 رہی۔

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی میں اضافے سے انسانی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ خصوصاً بچے، بزرگ اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد آلودہ فضا سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ رکھتے ہیں۔ سموگ کے باعث آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور انتہائی ضرورت کے تحت باہر جاتے وقت حفاظتی ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔ خصوصاً صبح اور شام کے اوقات میں کھلی فضا میں غیر ضروری سرگرمیوں سے اجتناب کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم کی صورتحال معمول کے مطابق رہنے کا امکان ہے۔ شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 17 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور صنعتی اخراج کی روک تھام سمیت مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے فضائی آلودگی میں کمی اور اس کی مسلسل نگرانی ناگزیر ہے۔

More News