‘مضحکہ خیز فیصلہ ہے’، ٹیم کی ‘میجر سرجری’ پر پی سی بی شدید تنقید کی زد میں

‘مضحکہ خیز فیصلہ ہے’، ٹیم کی ‘میجر سرجری’ پر پی سی بی شدید تنقید کی زد میں

انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں 7 کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف میں بڑی تبدیلیوں پر سوالات اٹھنے لگے

اسلام آباد: انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے قومی ٹیم میں ایک بار پھر ’میجر سرجری‘ کے فیصلے پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔

لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی بدترین شکست کے بعد پی سی بی نے تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل قومی اسکواڈ سے 7 کھلاڑیوں کو باہر کردیا۔ ان میں محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد شامل ہیں۔

ان کھلاڑیوں کی جگہ بیٹرز صائم ایوب اور عبداللہ، اسپن آل راؤنڈر عرفات منہاس، فاسٹ بولر محمد عمران جونیئر، وکٹ کیپر بلے باز سعد بیگ، آل راؤنڈرز محمد عمران رندھاوا اور رضا اللہ کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

پی سی بی نے کوچنگ اسٹاف میں بھی بڑی تبدیلیاں کیں۔ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو عہدوں سے ہٹا کر ان کی جگہ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکی کو ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔

پی سی بی کے اس فیصلے پر سابق کرکٹرز اور شائقین کی جانب سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیم میں مسلسل تبدیلیوں اور مختلف تجربات کے باوجود پاکستانی کرکٹ کی کارکردگی میں مستقل بہتری نظر نہیں آئی۔

وفاقی سطح پر بھی گزشتہ دو برس کے دوران ٹیم میں ’میجر سرجری‘ کی بات کی جاتی رہی ہے، تاہم بار بار کھلاڑیوں، کوچز اور ٹیم مینجمنٹ میں تبدیلیوں کے باوجود قومی ٹیم کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب امام الحق بھی دوسرے ٹیسٹ میں شرکت نہ کرنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں، جہاں انہیں لاہور ایئرپورٹ پر فیس ماسک اور چشمہ پہنے دیکھا گیا۔

پی سی بی کی حالیہ تبدیلیوں نے پاکستان کرکٹ کے مستقبل، سلیکشن پالیسی اور ٹیم مینجمنٹ کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

More News