موسمیاتی تبدیلی سے کنری کے لال مرچ کے کاشتکار شدید مشکلات کا شکار

موسمیاتی تبدیلی سے کنری کے لال مرچ کے کاشتکار شدید مشکلات کا شکار

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی اور مون سون کی بے قاعدگیوں نے زرعی شعبے کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث کسان روایتی طریقۂ کاشت ترک کرکے نئے طریقے اپنانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

سندھ کا قصبہ کنری پاکستان میں لال مرچ کی پیداوار کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں نسلوں سے کسان لال مرچ کی کاشت اور اسے دھوپ میں خشک کرنے کے روایتی طریقوں پر انحصار کرتے آئے ہیں، تاہم بدلتے موسمی حالات نے اس روایت کو شدید خطرے سے دوچار کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کنری کے کئی علاقوں میں کبھی ہرے بھرے اور لال مرچ سے بھرے کھیت اب خشک مٹی، جلی ہوئی فصلوں اور خالی زمین کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ شدید گرمی کے باعث پودے مرجھا رہے ہیں، جبکہ بارشوں میں غیر معمولی تاخیر نے صورتحال مزید سنگین بنا دی ہے۔ بعض علاقوں میں درجہ حرارت تقریباً 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

پاکستان کی معیشت میں زراعت کا حصہ تقریباً ایک چوتھائی ہے اور ملک کی تقریباً نصف افرادی قوت اس شعبے سے وابستہ ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب میں تقریباً 45 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی تھی، جس کے اثرات آج بھی کئی کسان محسوس کر رہے ہیں۔

لال مرچ کے کاشتکار اب موسم سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے کاشت کے اوقات تبدیل کر رہے ہیں۔ کچھ کسانوں نے مئی کے بجائے مارچ میں بیج بونا شروع کردیا ہے تاکہ پودے شدید گرمی شروع ہونے سے پہلے مضبوط ہوسکیں۔

کنری پاکستان کی مجموعی لال مرچ پیداوار میں 85 فیصد سے زائد حصہ ڈالتا ہے، اس لیے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نہ صرف مقامی کسانوں بلکہ ملک بھر میں لال مرچ کی فراہمی اور قیمتوں کے لیے بھی اہم چیلنج بن رہے ہیں۔

More News