مولانا فضل الرحمان کی کوشش ناکام، خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی برقرار

مولانا فضل الرحمان کی کوشش ناکام، خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی برقرار

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر سیاسی رابطوں اور مشاورت کے باوجود ڈیڈلاک برقرار ہے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکیں۔

مولانا فضل الرحمان نے حالیہ سیاسی صورتحال میں مختلف سیاسی قیادت کے درمیان رابطوں اور مشاورت کے ذریعے معاملات حل کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کی کوششوں کا مقصد سیاسی تناؤ کم کرنا اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا تھا جن سے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور امن و امان کی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت کی توجہ صوبے پر مرکوز ہے۔ وفاقی حکام کی جانب سے سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، جبکہ صوبے میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے معاملے نے سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت مخصوص ہنگامی حالات میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا طریقہ کار موجود ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام چلانے میں ناکامی کی صورت میں گورنر راج سے متعلق ہے۔ ان اقدامات کے لیے آئینی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی قیادت ممکنہ آئینی اقدامات پر تحفظات رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ صوبے کے معاملات سیاسی مشاورت اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے حل کیے جانے چاہییں۔ اس معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات سیاسی ماحول پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کی سیاسی کوششوں کے باوجود اگر فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا تو صوبے کی صورتحال پر سیاسی بحث مزید جاری رہ سکتی ہے۔ تاہم ان کی کوششوں کی ناکامی اور مذاکرات کے حتمی نتائج سے متعلق کسی باضابطہ بیان یا تصدیق شدہ تفصیلات کے بغیر اسے حتمی نتیجہ قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کا خاتمہ اور سیاسی استحکام اس وقت اہم معاملات ہیں۔ آئندہ دنوں میں وفاقی حکومت کے فیصلوں، سیاسی قیادت کے رابطوں اور صوبائی حکومت کے ردعمل سے صورتحال کی سمت واضح ہوگی۔

More News