مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ، عالمی توانائی قیمتیں معاشی استحکام کے لیے خطرہ
وزارت خزانہ کے مطابق اگست میں مہنگائی 10 سے 11 فیصد رہنے کا امکان، بیرونی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے قرضوں میں بھی کمی
اسلام آباد: وزارت خزانہ نے ملک میں مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے عالمی توانائی کی قیمتوں اور جغرافیائی صورتحال کو معاشی استحکام کے لیے اہم خطرات قرار دیا ہے۔
وزارت خزانہ کی ماہانہ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق جون میں مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد جبکہ جولائی میں 9.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگست میں مہنگائی دوبارہ 10 سے 11 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے، جبکہ آئندہ چند ماہ بھی مہنگائی کی شرح بلند رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں عالمی توانائی کی قیمتوں اور جغرافیائی کشیدگی کو ملکی معیشت کے لیے بڑے خطرات قرار دیتے ہوئے محتاط پالیسی، مالیاتی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم پیٹرولیم لیوی سمیت نان ٹیکس ریونیو 2.4 فیصد اضافے کے ساتھ 5 ہزار 178 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
پاکستان مسلسل تیسرے سال بنیادی بجٹ سرپلس حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر جبکہ برآمدات 30.8 ارب ڈالر ریکارڈ ہوئیں۔ اشیا کی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 9.4 فیصد اضافہ ہوا۔
آئی ٹی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور جولائی میں یہ سالانہ بنیاد پر 17.8 فیصد بڑھ کر 417 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں بنیادی بجٹ سرپلس جی ڈی پی کے 2.9 فیصد تک پہنچا، جبکہ مالیاتی خسارہ کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گیا، جو 20 سال سے زائد عرصے کی کم ترین سطح قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3 کردی ہے جبکہ آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مضبوط معاشی بنیادیں، مالیاتی نظم و ضبط اور مستحکم مالی ماحول ملکی معاشی بحالی کے عمل کو مزید سہارا دے سکتے ہیں۔





