واشنگٹن میں یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب، عالمی سطح پر مشترکہ سفارتی کوششوں پر زور
واشنگٹن: امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام یومِ سیاہ کشمیر کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی، جس میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا گیا۔
تقریب کا مقصد بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنا اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرنا تھا۔ تقریب میں کشمیری برادری، سول سوسائٹی، طلبہ، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کے بعد صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ پیغامات میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رائے شماری کے انعقاد تک مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر اجاگر کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی تاریخی اور قانونی بنیادوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کی قومی شناخت کا اہم حصہ ہے اور اس مقصد کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔
سفیر پاکستان نے اگست 2019 کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تناظر میں اجاگر کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔
تقریب کے اختتام پر کشمیری عوام کی جدوجہد اور ثابت قدمی پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس میں مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔








