وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ، سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سماعت کے لیے بڑا بینچ ضروری قرار نہ دیا
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت سے متعلق ایک اہم قانونی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسے مقدمات کی سماعت کے لیے لازمی طور پر بڑا بینچ تشکیل دینا ضروری نہیں۔ عدالت نے یہ ریمارکس پی ٹی سی ایل پنشنرز اور ملازمین سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران دیے۔
مقدمے کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس ارشد حسین شاہ بھی شامل تھے۔ دوران سماعت پی ٹی سی ایل ملازمین کی جانب سے سابق جج شوکت عزیز صدیقی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے مؤقف سے عدالت کو آگاہ کیا۔
سماعت کے دوران شوکت عزیز صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا، جبکہ موجودہ کیس کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کا دو رکنی بینچ کر رہا ہے، اس لیے اس حوالے سے قانونی اور آئینی پہلوؤں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
اس موقع پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے معاملات پر عدالت کے متعدد فیصلے موجود ہیں اور قانونی طور پر بڑے بینچ کی تشکیل ہر صورت میں ضروری نہیں ہوتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت اس معاملے کو سننے اور اس پر فیصلہ کرنے کے لیے مکمل اختیار رکھتی ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ فریقین اس حوالے سے کسی قسم کی تشویش کا شکار نہ ہوں کیونکہ موجودہ دو رکنی بینچ اس مقدمے کی سماعت کے لیے کافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر مقدمات کی سماعت کے لیے لازمی طور پر بڑا بینچ تشکیل دینے کی کوئی آئینی یا قانونی ضرورت موجود نہیں۔
سماعت کے اختتام پر وفاقی آئینی عدالت نے پی ٹی سی ایل ملازمین اور پنشنرز سے متعلق تمام زیر التوا مقدمات کو یکجا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ایک ہی نوعیت کے متعدد مقدمات کو یکجا کرکے سننے سے نہ صرف عدالتی وقت کی بچت ہوگی بلکہ تمام متعلقہ قانونی نکات کا جامع انداز میں جائزہ لینے میں بھی مدد ملے گی۔
عدالت نے مزید کارروائی کے لیے مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔ آئندہ سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی، جبکہ تمام متعلقہ مقدمات کو یکجا کرنے کے بعد مشترکہ سماعت کی جائے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کا یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے مقدمات کی سماعت کے طریقہ کار کے حوالے سے اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً ان معاملات میں جہاں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف آئینی فورمز سے رجوع کیا جاتا ہے۔








